Brailvi Books

اسلاف کا اندازِ تجارت
23 - 67
 جتنا زیادہ مال ہوگا آخرت میں اسے اتنا ہی زیادہ حساب بھی دینا ہوگا۔
ذرے ذرے کا حساب
حضورِ پاک،صاحب ِلولاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے کہ قیامت کے دن مالِ حلال جمع کرنے والے اور اسے حلال جگہ خرچ کرنے والے ایک شخص کو لایاجائے گا پھر اس سے کہا جائے گا کہ حساب کے لئے کھڑے رہو۔پھر اس سے ہر دانے ،ذرے اور ہر ہر دانق (درہم کے چھٹے حصے)کا حساب لیاجائے گا کہ اس نے اسے کہا ں سے حاصل کیا اور کہاں خرچ کیا۔پھر فرمایا: اے ابنِ آدم ! تو ایسی دنیا کا کیا کرے گا جس کے حلال کا حساب دینا پڑے گا اور حرام کی سزا بھگتنا پڑے گی۔(1)
سب سے مالدار صحابی کے حسابِ قیامت کا احوال
شیخ طریقت، امیر اہلسنت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علّامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطّار قادری رضوی ضیائی دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ اپنی مایہ ناز کتاب فیضانِ سنت کے باب نیکی کی دعوت کے صفحہ 353پر ارشاد فرماتے ہیں:عَشَرَۂ  مُبشَّرہ کے روشن ستارے حضرتِ سیِّدُنا عبدُالرحمن بن عَوف رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ   جو کہ صَحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  میں سب سے زیادہ مالدار تھے،آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  کا سارا ہی مال یقینی طور پر حَلال تھا اورکثر تِ مال غفلت شعاری کے بجائے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  کے لیے خشیتِ الٰہی کا سبب بن گئی تھی۔آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے حسابِ قیامت کی حِکایت بھی
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…کنزالعمال ، کتاب الاخلاق ،قسم الاقوال ، ۳/ ۹۷، حدیث: ۶۳۲۵