Brailvi Books

اسلاف کا اندازِ تجارت
22 - 67
 کرتا ہوں، اگر چاہو تو خرید لو، میں اس سے زیادہ رقم ہر گز نہیں لوں گا۔ وہ تاجر بھی اللہ عَزَّوَجَلَّ   کا نیک بندہ تھااوراپنے مسلمان بھائی کی بھلائی کاخواہاں تھا ۔دھوکے سے ان کا مال لینے والا یا بددیانت تا جر نہ تھا۔جب اس نے آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ  کی یہ بات سنی تو کہنے لگا : میں نے بھی اپنے ربّ عَزَّوَجَلَّ سے یہ عہد کر رکھا ہے کہ کبھی بھی اپنے مسلمان بھائی کے ساتھ بد دیانتی نہیں کروں گا اور نہ ہی کبھی کسی مسلمان کا نقصان پسند کروں گا۔ اگر تم بادام 90 دینار میں بیچو تو میں خریدلوں گا ،اس سے کم قیمت میں کبھی بھی یہ بادام نہیں خریدوں گا ۔ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ بھی اپنی بات پر قائم رہے اور فرمایا: میں 63دینار سے زیادہ میں فروخت نہیں کرو ں گا ۔چنانچہ نہ تو اس امانت دارتاجر نے یہ بات گوارا کی کہ مَیں کم قیمت میں خریدو ں او رنہ ہی آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ تین دینار سے زیادہ نفع لینے پرراضی ہوئے بالآخر ان کاسودا نہ بن سکا اور تا جر وہاں سے چلا گیا ۔(1)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!بیان کردہ واقعات سے معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے اسلاف رَحِمَہُمُ اللّٰہ ُ السَّلَام حُصُولِ مال کی خواہش کے بجائےلقمۂ حرام سے بچنے کی فکرکیا کرتے تھےیہی وجہ ہے کہ امام اعظم عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْاَکرَم نے فروخت کردہ کپڑوں کی حاصل شدہ رقم اپنے پاس رکھنا گوارا نہ کی مگر افسوس! بدقسمتی سے فی زمانہ اکثر لوگوں کو کثرتِ مال ہی کی فکر دامن گیر رہتی ہے حالانکہ دنیا میں جس کے پاس
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…عیون الحکایات،الحکایة الخامسة والاربعون بعد المائة ، ص۱۶۴ ،ملخصاً