Brailvi Books

اسلاف کا اندازِ تجارت
21 - 67
 سیِّدُناحفص نے ایک مرتبہ مالِ تجارت فروخت کیااور بیچتے ہوئے عیب بتانابھول گئے۔ جب امامِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  کو علم ہوا تو آپ  رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے تمام کپڑوں کی قیمت صدقہ کر دی ۔(1) 
﴿2﴾دیانتدار تاجر
حضرت سَیِّدُنا سری سقطی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی بھی تجارت کیا کرتے تھے۔آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے یہ عہد کیا ہوا تھا کہ تین دینار سے زیادہ نفع نہیں لوں گا اور آپ اپنے اس عہدپر سختی سے عمل بھی کِیاکرتےتھے۔ایک مرتبہ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ بازار تشریف لے گئےاور60دینار کے بدلے96صاع بادام خریدے پھر انہیں بیچنے لگے اور ان کی قیمت 63دینار رکھی، تھوڑی دیرکے بعد آپ کے پاس ایک تاجر آیا اورکہنے لگا:میں یہ سارے بادام آپ سے خریدنا چاہتا ہوں۔ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: خرید لو۔ اس نے پوچھا: کتنے دینار لیں گے؟ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا:63دینار۔اس تا جر نے کہا:حضور!باداموں کا ریٹ بڑھ گیا ہے اور اب 96 صاع باداموں کی قیمت 90دینا ر تک پہنچ چکی ہے۔آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ مجھے 90دینار میں یہ بادام فروخت کردیں۔حضرت سَیِّدُنا سری سقطی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی نے فرمایا: میں نے اپنے ربّ عَزَّوَجَلَّ سے وعدہ کرلیا ہے کہ تین دینار سے زیادہ نفع نہیں لوں گا لہٰذا میں اپنے وعدہ کے مطابق تمہیں یہ با دام بخوشی 63دینار میں فروخت
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1… تاریخ بغداد،باب مناقب ابی حنیفة ، ۱۳/۳۵۶