Brailvi Books

اسلاف کا اندازِ تجارت
20 - 67
ہی اپنا (تجارتی )سامان چھوڑا اور نماز کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے ۔اس پر آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایاکہ اِنہی لوگوں کے حق میں اللہ عَزَّوَجَلَّ نے آیت ”رِجَالٌ لَّا تُلْہِیْہِمْ “نازل فرمائی ہے۔(1) 
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اسلام کا اولین دور کتنا خوبصورت اور روشن تھا کہ جب  مسلمان تقویٰ وپرہیزگاری کے پیکر ہوا کرتے تھے،وہ  حضرات کسبِ حلال کیلئے تجارت تو کرتے تھے مگر بددیانتی ، جھوٹ اور فریب وغيره سے اپنے آپ کو بچائے رکھتے۔آئیے!ترغیب کے لئےاسلاف رَحِمَہُمُ اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن کی سچی اور پاکیزہ تجارت کے دو ایمان افروز واقعات مُلاحظہ کیجئے۔
﴿1﴾عیب دار چیز بِکنے پر ردِّ عمل
کروڑوں حنفیوں کے پیشوا حضرت سَیِّدُنا امام اعظم ابوحنیفہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے حصولِ رزقِ حلال کے لئے تجارت کا پیشہ اپنایا تھا ،آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کپڑے کے بہت بڑے تاجر تھے مگر اس کے باوجودآپ کی تجارت احسان، خیر خواہی اور اسلام کے پاکیزہ اصولوں پر مشتمل تھی ۔چنانچہ حضرت سیِّدُناحفص بن عبدالرحمٰن عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن  فرماتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا امامِ اعظم ابو حنیفہرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ میرے ساتھ تجارت کرتے تھے اور مجھے مالِ تجارت بھیجتے ہوئے فرمایاکرتے:اے حفص! فلاں کپڑے میں کچھ عیب ہے۔ جب تم اسے فروخت کروتو عیب بیان کر دینا۔ حضرت
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…معجم کبیر،عبد الله بن مسعود…الخ، ۹/۲۲۲، حدیث:۹۰۷۹