Brailvi Books

اسلاف کا اندازِ تجارت
19 - 67
معاشرے کا ہرفرداللہ عَزَّ  وَجَلَّ پربھروسہ کرے گااور ظاہری اسباب کے ساتھ ساتھ رحمتِ الٰہی  کا طالب ہوگا نیز اپنے دل میں تقویٰ وپرہیزگاری کا پودا لگائےگا تو اِنْ شَآءَ اللہعَزَّ  وَجَلَّ ایک بار پھر ہمارے معاشرے میں خوشحالی  کا راج ہوگا۔
تجارت اور صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  کا معمول  
اگر ہم صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کی سیرت پر نظر ڈالیں تو ہرطرف تقویٰ وپرہیزگاری اور طلبِ رضائے الٰہی  کی بہاریں نظر آتی ہیں۔وہ مقبولانِ خدا تجارت تو کرتے مگر کبھی خدا کی یاد سے غافل نہیں ہوتے تھے۔چنانچہ حضرت سَیِّدُنا قتادہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  فرماتے ہیں کہ صحابۂ  کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان تجارت تو کرتے تھے مگر جب انہیں حُقُوقُ اللہ میں سے کوئی حق پیش آجاتا تو تجارت اور خریدو فروخت انہیں ذکرُ اللہ سے نہ روکتی،یہاں تک کہ وہ اسے ادا کرلیتے۔(1) صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کے اسی طرزِ عمل کو بیان کرتے ہوئے  اللہ عَزَّوَجَلَّ   اپنے پاک کلام قرآن مجید فُرقان حمید میں  ارشاد فرماتا ہے: رِجَالٌ ۙ لَّا تُلْہِیۡہِمْ تِجَارَۃٌ وَّ لَا بَیۡعٌ عَنۡ ذِکْرِ اللہِ وَ اِقَامِ الصَّلٰوۃِ وَ اِیۡتَآءِ الزَّکٰوۃِ ۪ۙ(پ۱۸، النور:۳۷)	
ترجَمۂ کنز الایمان:وہ مرد جنہیں غافل نہیں کرتا کوئی سودا اور نہ خرید و فروخت اللہ كی یاد اور نماز برپا رکھنے اور زکوٰۃ دینے سے۔
حضرت ابنِ مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے دیکھاکہ بازار والوں نے اذان سنتے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…بخاری،کتاب البیوع، باب  و اذا راوا تجارة …الخ،۲/۹، تحت الباب :۱۱