بُنیاد ہے: جھوٹی قسم سامان تو بکوادیتی ہے لیکن برکت مٹا دیتی ہے۔(1)
معلوم ہوا کہ جھوٹا شخص چاہے کتنی ہی کامیابیاں سمیٹ لےمگر آخرِ کار جھوٹ کا وبال اسے پہنچے گا،بالفرض دنیا میں نہ بھی سہی مگرآخرت کا خسارہ تو ضرور ہے اور یقیناًخسارۂ آخرت سے بڑھ کر انسان کے لئے کوئی مصیبت نہیں۔ لہٰذا کیا ہی اچھا ہو کہ ہم اپنے مسلمان بھائیوں کے ساتھ خیر خواہی اور بھلائی والا معاملہ کریں اور رزق کے بارے میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کی ذات پر بھروسہ کرنے کو اپنا شیوہ بنالیں ۔ آج کل تجارتی معاملات میں جگہ جگہ جھوٹ اور دھوکہ دہی اسی وجہ سے عام ہوچکی ہے کہ لوگوں نے رازقِ حقیقی عَزَّوَجَلَّپر توکّل اور بھروسہ کرنا چھوڑ دیا ہے۔ آیئے ! اُس پاک ذات پر توکّل کا ذہن بنایئے جس نے زمین پر چلنے والے ہر جاندار کا رزق اپنے ذمّۂکرم پر لے رکھا ہے ۔
رزق کا ضامن کون؟
دنیا میں بسنے والے تمام جاندار،خواہ ترقی یافتہ شہری ہوں یا کسی گاؤں کے دیہاتی، گھنے جنگلات میں رہنے والے حیوانات ہوں یا بلند وبالا درختوں کی چوٹی پر بنے نشیمن میں آباد پرندے، سمندر کی گہرائیوں میں رہنے والی مچھلیاں ہوں یا پتھر وں کے پیٹ میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کی تسبیح وتقدیس کرنے والے کیڑے ، ہرایک کا رزق خدائے خالق و رازِق عَزَّوَجَلَّنے اپنے ذمّے لے رکھا ہے۔چنانچہ ارشادِ خداوندی ہے:
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
… بخاری، کتاب البيوع،باب يمحق الله الربا…الخ،۲/ ۱۵، حديث: ۲۰۸۷