اپنے نصیب پر خوش رہنے والی عورت
حضرت سیِّدُنا امام عبد الملک بن قریب اَصْمَعی علیہ رحمۃُ اللہِ القوی فرماتے ہیں : میں ایک قبیلہ میں گیا تو وہاں میں نے لوگوں میں سے سب سے خوبصورت عورت کوسب سے بدصورت شخص کے نکاح میں دیکھا ، میں نے اس عورت سے کہا : کیا تو اپنے لئے اس بات پر راضی ہے کہ تو اس طرح کے شخص کے نکاح میں ہو ؟ اس نے جواب دیا : خاموش ہو جاؤ ! تم نے غلط بات کی ہے ، ہو سکتا ہے اس نے کوئی نیکی کی ہو جس کی جزا میں اللہعَزَّوَجَلَّ نے اس کا مجھ سے نکاح کر دیا ، یا ہو سکتا ہے کہ میں نے کوئی گناہ کیا ہو جس کے عقاب میں اللہعَزَّوَجَلَّ نے میرا اس سے نکاح کر دیا ہو توکیا اب بھی میں اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی رِضا پر راضی نہ رہوں ؟ اس طرح اُس عورت نے مجھے خاموش کرادیا ۔ (احیاء علوم الدین،کتاب آداب النکاح،الباب الثالث،۲ /۷۶)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
تدبیر کو ترک نہ کیجئے
یاد رہے کہ مرض کا علاج کروانا یا مصیبتوں کو دور کرنے کی تدابیر اختیار کرنا یادعا کرنا تقدیر کے منافی نہیں بلکہ یہ بھی تقدیر کے تحت ہی ہوتی ہیں مگر توکُّل (یعنی بھروسا) خالقِ اسباب (یعنی رب عَزَّوَجَلَّ) پر ہونا چاہئے نہ کہ اسباب پر یعنی رب تعالیٰ چاہے گا تو ہی ہماری تدبیر کامیاب ہوگی ورنہ نہیں۔ مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضرت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّان لکھتے ہیں خیال رہے کہ تدبیر بھی تقدیر