Brailvi Books

اَعرابی کے سوالات اور عَرَبی آقا کے جوابات
98 - 118
ابتداء کرتا ہے۔(مسلم،کتاب القدر،باب فی الامر۔۔الخ،ص۱۴۳۲،حدیث:۲۶۶۴)
	 مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر  ت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّان اِس حدیثِ پاک کے تحت لکھتے ہیں :کیونکہ یہ کہنے میں دل کو رنج بھی بہت ہوتا ہے، رب تعالیٰ ناراض بھی ہوتا ہے۔’’ اگر میں اپنا مال فلاں وقت فروخت کردیتا تو بڑا نفع ہوتا مگر میں نے غلطی کی کہ اب فروخت کیا ہائے بڑی غلطی کی ‘‘یہ بُرا ہے لیکن دینی معاملات میں ایسی گفتگو اچھی یہاں دنیاوی نقصانات مراد ہیں۔ اس اگر مگر سے انسان کا بھروسہ رب تعالیٰ پر نہیں رہتا اپنے پر یا اسباب پر ہوجاتا ہے ۔خیال ر ہے کہ یہاں دنیا کے اگر مگر کا ذکر ہے دینی کاموں میں اگر مگر اور افسوس وندامت اچھی چیز ہے اگر میں اتنی زندگی  اللہعَزَّوَجَلَّ  کی اطاعت میں گزارتا تو متقی ہوجاتا مگر میں نے گناہوں میں گزاری ہائے افسوس !یہ اگر مگر عبادت ہے ۔اگر میں حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)کے زمانہ میں ہوتا تو حضور  (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)کے قدموں پر جان قربان کردیتا مگر میں اتنے عرصہ بعد پیدا ہوا ہائے افسوس! یہ عبادت ہے۔ اعلیٰ حضرت قدس سرہ نے فرمایا: شعر 
جو ہم بھی واں ہوتے خاک گلشن لپٹ کے قدموں سے لیتے اوترن
مگر کریں کیا نصیب میں تو یہ نامرادی کے دن لکھے تھے
لہٰذا یہ حدیث ان احادیث یا آیات کے خلاف نہیں جن میں ’’لَو(اگر)‘‘ فرمایاگیا ۔ (مراۃ المناجیح،۷/۱۱۳)