بندہ صابر پایا(پ۲۳،صٓ:۴۴)، صبر ہی کی برکت سے حضرت حسین (رضی اللہ تعالٰی عنہ)سیِّدُ الشُہَداء ہوئے۔(مراٰۃ المناجیح،۳/۵۹)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
ایک بزرگ اورقیدی دوست
کسی بزرگ کا ایک دوست تھاجسے بادشاہ نے قید کردیا ، اس نے اپنے دوست کو اِطِّلاع دی اور شکوہ بھی کیا ۔ اُنہوں نے پیغام بھجوایا : اللہعَزَّوَجَلَّ کا شکر ادا کرو۔ بادشاہ نے اُسے سزا دی ، اس نے پھر اپنے دوست کو اطلاع دی اور شکوہ کیا تو انہوں نے پھرپیغام بھجوایا : اللہعَزَّوَجَلَّ کا شکر ادا کرو ! اسی دوران دَسْت کی بیماری میں مبتلاایک مجوسی(آتش پرست) کو لایاگیا اور اس کیساتھ قید کردیا گیا ، بیڑی کا ایک کَڑا اس کے پاؤں میں تھا تودوسرا کڑا مجوسی کے پاؤں میں۔ اس نے پھرپیغام بھیجا تو دوست کا جواب ملا : اللہعَزَّوَجَلَّ کا شکر کرو ۔ مجوسی کو قضائے حاجت کیلئے کئی بار اٹھنا پڑتاتواسے بھی مجبوراً ساتھ اٹھنا پڑتا اورمجوسی کے فارغ ہونے تک اس کے ساتھ ٹھہرنا پڑتا ۔ قیدی دوست نے یہ سب لکھ کر دوست کو بھیجا توجواب ملا : اللہعَزَّوَجَلَّ کا شکر ادا کرو۔ قیدی دوست نے لکھ کربھیجا : کب تک شکرکروں ؟ اس سے بڑی مصیبت کیا ہوسکتی ہے ؟ بُزرگ دوست نے جواب لکھا :اگر مجوسی کی کمرمیں بندھازُنّار(یعنی وہ دھاگہ جو اُن کے کفریہ مذہب کی علامت ہے)تمہاری کمر میں ہوتا تو تم کیا کرتے ؟ (احیاء علوم الدین،کتاب الصبر والشکر،بیان وجہ اجتماع۔۔الخ،۴ /۱۵۸)