(احیاء علوم الدین،کتاب ریاضۃ النفس،بیان حقیقۃ حسن الخلق،۳ /۶۶ ملخصاً)اچھے اخلاق سے مراد ہے خَلْق و خالق کے حقوق اداکرنا،نرم وگرم حالات میں شاکر و صابر رہنا۔(مراٰۃ المناجیح ،۶/۴۸۲)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
صبر سے بہتر کوئی شے نہیں
صاحب ِجُودو نوال، رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمکا فرمانِ بشارت نشان ہے: وَمَنْ یَّتَصَبَّرْ یُصَبِّرْہُ اللہُ وَمَا اُعْطِیَ اَحَدٌ عَطَاءً خَیْرًا وَاَوْسَعَ مِنْ الصَّبْرِ یعنی جو صبر چاہے گا اللہ اسے صبر دے گااور کسی کو صبر سے بہتر اور وسیع کوئی چیز نہ ملی۔(بخاری،کتاب الزکاۃ،باب الاستعفاف عن المسألۃ،۱/۴۹۶، حدیث:۱۴۶۹)
مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر تِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّان اِس حدیثِ پاک کے تحت فرماتے ہیں : یعنی رب تعالیٰ کی عطاؤں میں سے بہترین اور بہت گنجائش والی عطا صبر ہے کہ ربّ تعالیٰ نے اس کا ذکر نماز سے پہلے فرمایا: اِسْتَعِیۡنُوۡا بِالصَّبْرِ وَالصَّلٰوۃِ ؕ(ترجمۂ کنزالایمان:اے ایمان والو صبر اور نماز سے مدد چاہو (پ۲،البقرۃ:۱۵۳))اور صابر کے ساتھ اللہ ہوتا ہے، نیز صبر کے ذریعہ انسان بڑی بڑی مشقتیں برداشت کرلیتا ہے اور بڑے بڑے درجے حاصل کرلیتا ہے، رب تعالیٰ نے (سیدنا) ایوب علیہ السلام کے بارے میں فرمایا: اِنَّا وَجَدْنٰہُ صَابِرًا ؕہم نے انہیں