حسنِ اخلاق کی اہمیت
ہر انسان کی ایک ظاہری اور ایک باطنی صورت ہوتی ہے،ظاہری صورت بصارت(یعنی ظاہری آنکھوں )سے جبکہ باطنی صورت بصیرت(یعنی دل کی آنکھوں )سے نظر آتی ہے۔ظاہری صورت کو خَلْق جبکہ باطنی صورت کو خُلُق کہا جاتا ہے۔انسان کی ظاہری اور باطنی دونوں صورتوں کی ایک ہیئت ہوتی ہے جو یا تو خوبصورت ہوتی ہے یا پھر بدصورت ،بعض اوقات انسان کا ظاہر خوبصورت اور باطن بدصور ت ہوتا ہے جبکہ بسا اوقات باطن خوبصورت اور ظاہر بدصورت۔ایک انسان کے لئے یہ انتہائی بُری بات ہے کہ اس کا ظاہِر تو خوبصورت لیکن باطِن قبیح وبدصورت ہو،چنانچہ منقو ل ہے کہ ایک دانا شخص نے کسی خوبصورت چہرے والے آدمی سے کہا:گھر تو بہت اچھا ہے لیکن اس میں رہنے والا بدصورت ہے۔ (اتحاف السادۃ المتقین،کتاب ریاضۃ النفس،بیان حقیقۃ حسن الخلق،۸/۶۰۷)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
اچھے اور برے اخلاق کی تعریف
انسان کی باطنی صورت اگر اچھی ہو کہ اس سے اچھے اعمال بغیر تکلف اور غور وتفکُّر کے ادا ہوں تو اسے حسنِ اخلاق سے تعبیر کیا جاتا ہے جبکہ یہی باطنی صورت اگر بُری ہو کہ اس سے بلاتکلُّف برے اعمال صادِر ہوں تو اسے بداخلاقی کہا جاتا ہے۔