صَفحات پر مشتمل کتاب ، ’’بہارِ شریعت‘‘جلد اوّل صَفْحَہ802پر ہے: رسولُ اللہصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے بیماریوں کا ذکر فرمایا اور فرمایاکہ مومِن جب بیمار ہو پھر اچھا ہو جائے، اس کی بیماری گناہوں سے کفّارہ ہو جاتی ہے اور آئِندہ کے لئے نصیحت اورمنافِق جب بیمار ہوا پھر اچھا ہوا، اس کی مثال اُونٹ کی ہے کہ مالک نے اسے باندھا پھر کھول دیا تو نہ اسے یہ معلوم کہ کیوں باندھا، نہ یہ کہ کیوں کھولا! (سُنَنِ ابوداوٗد،کتاب الجنائز،باب الامراض۔۔الخ،۳/۲۴۵،حدیث: ۳۰۸۹ملخّصًا)
کیونکہ مومن بیماری میں اپنے گناہوں سے توبہ کرتا ہے وہ سمجھتا ہے کہ یہ بیماری میرے کسی گناہ کی وجہ سے آئی اور شاید یہ آخری بیماری ہو جس کے بعد موت ہی آئے اس لیے اسے شفاء کے ساتھ مغفرت بھی نصیب ہوتی ہے ۔جبکہ منافِق غافِل یہی سمجھتا ہے کہ فلاں وجہ سے میں بیمار ہوا تھا اور فلاں دوا سے مجھے آرام ملا، اسباب میں ایسا پھنسا رہتا ہے کہ مُسَبِّبُ الاسباب پر نظر ہی نہیں جاتی نہ توبہ کرتا ہے نہ اپنے گناہوں میں غور۔(مراۃ المناجیح ،۲/ ۴۲۴ماخوذا)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
(۲۲) سب سے بڑی اچھائی
اَعرابی کا بائیسواں سوال یہ تھا کہ کون سی نیکی اللہعزوجل کے نزدیک سب سے افضل ہے؟ سرکارِ عالی وقار، مدینے کے تاجدارصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمنے فرمایا:اچھے اخلاق،تواضُع اور مصائب پر صبر اور تقدیر پر راضی رہنا۔