ہے جیسے بھٹی لوہے کے زَنگ کو صاف کردیتی ہے ۔(التر غیب و التر ھیب،کتاب الجنائز،الترغیب فی الصبر۔۔الخ،۴/۱۴۶،حدیث:۴۲)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
تجھے یہ نعمت بن مانگے ملی ہے
حضرتِسیِّدُنا وَہْب بن مُنَبِّہ رحمۃُ اللہ تعالٰی علیہسے منقول ہے: دو عبادت گزاروں نے پچاس سال تک اللہعَزَّوَجَلَّکی عبادت کی، ان میں سے ایک کے جسم میں خطرناک بیماری لگ گئی ،اس نے بارگاہِ خداوندی عَزَّوَجَلَّمیں التجاکی : اے میرے پاک پروردگار عَزَّوَجَلَّ! میں نے اتنے سال تیری اطاعت وعبادت کی پھر بھی مجھے اتنی خطرنا ک بیماری میں مبتلا کردیا گیا، اس میں کیا حکمت ہے ؟ اللہعَزَّوَجَلَّنے فرشتوں کو حکم فرمایا:اس سے کہو: تو نے جو عبادت و ریاضت کی وہ ہماری ہی عطا کردہ توفیق سے ہے، باقی رہی بیماری تو میں نے اس میں تجھے اس لئے مبتلا کیا تاکہ تجھے اَبراروں (نیکوکار لوگوں ) کے مرتبہ پر فائز کر دوں ، تجھ سے پہلے کے لوگ تو بیماری ومصائب کے خواہش مندہوا کرتے تھے اور تجھے تو میں نے یہ نعمت بِن مانگے عطا کی ہے ۔
(عیون الحکایات،الحکایۃ الحادیۃ والخمسون بعد الثلاثمائۃ، ص۳۱۲)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
بیماری نصیحت ہے
دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی ادارے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ 1250