Brailvi Books

اَعرابی کے سوالات اور عَرَبی آقا کے جوابات
90 - 118
رونے سے گناہ معاف ہوجائیں گے۔(تنبیہ المغترین، ص۱۰۶)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
رونے کے اسباب
	حضرت سیدنا یزید بن مَیْسَرَہ   رَحمَۃُ اللہ تعالٰی علیہ فرماتے ہیں :رونا پانچ چیزوں کی وجہ سے ہوتا ہے: خوشی یا غم سے، دَرد یاگھبراہٹ سے، ریا سے اور چھٹی وجہ اللہعَزَّوَجَلَّ کے خوف سے رونا ہے اور وہ اچانک ہوتا ہے عمل سے نہیں ،یہی وہ رونا ہے جس کا ایک آنسو(جہنم میں ) آگ کے کئی پہاڑو ں کو بجھا دیتا ہے۔(تنبیہ المغترین،ص۲۵۸)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! 		صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
عاجزی کرنے والے کوبڑا مرتبہ ملے گا 
	خاتَمُ الْمُرْسَلین، رَحمَۃٌ لّلْعٰلمینصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے : تواضُع(یعنی عاجزی) اختیار کرو اور مسکینوں کے ساتھ بیٹھا کرو  اللہعَزَّوَجَلَّکے بڑے مرتبے والے بندے بن جاؤ گے اور   تَکَبُّر  سے بھی بَری ہو جاؤ گے۔ 
(کنزالعمال، کتاب الاخلاق،قسم الاقوال،۲/۴۹،جزئ:۳، حدیث:۵۷۲۲)
عاجزی کا انعام 
	حضرت سیدنا مجاہد رحمۃُ اللہ تعالٰی علیہ فرماتے ہیں :اللہعَزَّوَجَلَّ نے جب حضرت سیدنا نوح عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کی قوم کو طوفان میں غرق فرمایا تو تمام
پہاڑ اونچے ہوگئے لیکن جُودی پہاڑ نے عاجزی اختیار کی۔اللہعَزَّوَجَلَّ نے اسے تمام پہاڑوں پر