Brailvi Books

اَعرابی کے سوالات اور عَرَبی آقا کے جوابات
87 - 118
کے خلاف ہو تو( دیکھا جائے گا)اگر اس کے ساتھ اللہ تعالٰی کا حق متعلق ہو لیکن اس پر کوئی حکمِ شرعی مثلاًحَدْ(جیسے زنا اور چوری کی صورت میں ) یا تَعْزِیْر(جیسے حرام چیزوں کے سننے اور خنزیر کھانے کی صورت میں )مُرتَّب نہ ہو تو بھی اسے چھپانا لازم ہے اور اگر اس پر کوئی حکمِ شرعی مرتب ہوتا ہوتو اس صورت میں جاننے والے شخص کو اِختیار ہے کہ اس معاملے کی پردہ پوشی کرے یا پھر اسے حاکم تک پہنچادے تاکہ وہ اس شخص پر حکمِ شرعی کو نافذ کرے البتہ پردہ پوشی افضل ہے مثلاً کسی کے زنا یا شراب پینے پر مطلع ہوا تو اُسے چھپانا بہتر ہے اور*اگر وہ قول یا فعل جو خلافِ شریعت ہے اس کا تعلق بندوں کے حقوق سے ہونیز اس میں کسی شخص کا نقصان ہومثلاً ایک شخص نے دوسرے شخص کی غیر موجود گی میں اسے زدوکوب یا قید کرنے یا اس کا مال لینے کا ارادہ ظاہر کیایا پھر اس پر کوئی حکمِ شرعی مرتب ہوتا ہو مثلاً ایک شخص کی موجود گی میں دوسرے شخص نے کسی کو قتل کیا جس پر قصاص کا حکم مرتب ہوتا ہے یا پھر اس کی موجود گی میں کسی کا ما ل ضائع کیا جس پر تاوان کا حکم لگتا ہے تو اس شخص پر لازِم ہے کہ حاکم کو اس بات کی اطلاع دے اور ضرورت پڑنے پر اس معاملے کی گواہی دے اور*اگر وہ خلافِ شریعت قول یا فعل جس کا تعلق حقوق العباد سے ہے اس میں کسی کا نقصان نہ ہواور نہ ہی اس پر کوئی حکمِ شرعی لگتا ہو یا پھر اس پر حکمِ شرعی مرتب تو ہوتا ہو لیکن متعلقہ شخص کو اس قول یا فعل کا علم ہوچکا ہے اور اُس نے اِس شخص سے گواہی دینے کا مطالبہ بھی نہیں کیا تو اس صورت میں پردہ پوشی لازِم ہے۔  (الحدیقۃ الندیۃ،۲/۲۶۳)