Brailvi Books

اَعرابی کے سوالات اور عَرَبی آقا کے جوابات
84 - 118
عالیشان ہے :مَنْ سَتَرَ مُسْلِمًا سَتَرَہُ اللَّہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِجوبندہ دنیا میں کسی بندے کی پردہ پوشی کریگا اللہعَزَّوَجَلَّ قیامت کے دن اس کی پردہ پوشی فرمائے گا۔(مسلم،کتاب البر والصلۃ،باب تحریم الظلم،ص۱۳۹۴،حدیث:۲۵۸۰)
	  مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر  ت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّان اِس حدیثِ پاک کے تحت لکھتے ہیں :یعنی اگر کوئی حیا دار آدمی ناشائستہ حرکت خُفیہ کر بیٹھے پھر پچھتائے تو تم اسے خُفیہ(یعنی پوشیدہ طور پر) سمجھا دو کہ اس کی اصلاح ہوجائے، اُسے بدنام نہ کرو ،اگر تم نے ایسا کیا تو اللہ تعالٰی قیامت میں تمہارے گناہوں کا حساب خُفیہ ہی لے لے گاتمہیں رُسوانہ کرے گا،ہاں ! جو کسی کی اِیذا کی خفیہ تدبیریں کر رہا ہو یا خفیہ حرکتوں کا عادی ہوچکا ہو اُس کا اِظہار ضرورکردو تاکہ وہ شخص اِیذا(یعنی تکلیف) سے بچ جائے یا یہ توبہ کرے، یہ قیدیں ضرور خیال میں رہیں۔غرضکہ صرف بدنامی سے کسی کو بچانا اچھا ہے مگر اس کے خُفیہ ظلم سے دوسرے کو بچانا یا اُس کی اِصلاح کرنا بھی اچھا ہے، یہ فرق خیال میں رہے۔یہاں (صاحبِ) مِرقات نے فرمایا کہ جو مسلمان کی ایک عیب پوشی کرے رب تعالیٰ اس کی سات سو عیب پوشیاں کریگا۔(مراٰۃ المناجیح ، ۶/۵۵۱)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
اب وہ عورت غیر ہوچکی ہے 
	 کسی کی اپنی بیوی سے جنگ رہتی تھی اس کے ایک دوست نے پوچھا کہ