Brailvi Books

اَعرابی کے سوالات اور عَرَبی آقا کے جوابات
81 - 118
یوں بدلتے ہیں بدلنے والے
	مکّۂ مکرَّمہ زَادَھَا اللہُ شَرَفاً وَّ تَعْظِیْماً میں ایک حسین وجمیل عورت نے ایک دن آئینہ دیکھتے ہوئے اپنے شوہر سے کہا : تمہارا کیا خیال ہے کہ کوئی ایسا شخص ہوگا جو اس چہرے کو دیکھے اور فتنے میں نہ پڑے ؟ شوہر بولا : ہاں ، پوچھا : کون ؟ شوہر بولا :عُبید بن عُمیر(تابِعی) ، وہ بولی : ایسی بات ہے تو میں انہیں فتنہ میں ڈال کر دکھاؤں ؟یوں شوہر کی رضامندی سے وہ عورت مسجدُ الحرام میں حضرتِ سیِّدُنا عُبید بن عُمیر رحمۃُ اللہ تعالٰی علیہکے پاس مسئلہ پوچھنے والی بن کر آئی ، آپ رحمۃُ اللہ تعالٰی علیہاس عورت کو لے کر  ایک طرف ہوگئے ، اچانک عورت نے اپنے چہرے سے نقاب ہٹادیا ، آپ رحمۃُ اللہ تعالٰی علیہنے فوراًفرمایا : خدا کی بندی ! اللہعَزَّوَجَلَّ سے ڈر ! وہ بولی : میں آپ کے فتنے میں پڑگئی ہوں ، لہٰذا آپ میری پیشکش پر غور کرلیں۔ آپ رحمۃُ اللہ تعالٰی علیہنے فرمایا: میں تجھ سے چند سوالات کرتا ہوں ، اگر تو سچ بولے گی تو پھر میں تیری پیشکش پر غور کروں گا۔ بولی : آپ جو بھی سوال کریں گے میں سچ ہی بولوں گی ۔ آپ رحمۃُ اللہ تعالٰی علیہنے فرمایا : مجھے یہ بتاؤ کہ جس وقت مَلَکُ المَوت حضرتِ سیِّدُنا عِزْرائیل عَلَیْہِ السَّلامتمہاری روح قبض کرنے آئیں گے کیا اس وقت تمہیں یہ پسند ہوگا کہ میں تمہارا یہ کام کروں ؟ بولی : بالکل نہیں ، آپ رحمۃُ اللہ تعالٰی علیہنے فرمایا : سچ کہا ، پھر فرمایا : جب تجھے قبر میں ڈال دیا جائے پھر تجھے سوالات کے لئے بٹھایا جائے کیا اس وقت تمہیں یہ پسند ہوگا کہ میں تمہارا یہ کام کروں ؟ بولی : بالکل نہیں ، آپ رحمۃُ اللہ تعالٰی