(۱۹) رسوائی سے بچنے کا طریقہ
اَعرابی کا انیسواں سوال یہ تھا کہ میں چاہتا ہوں کہ اللہعَزَّوَجَلَّ مجھے لوگوں کے سامنے رسوا نہ فرمائے۔ رسولِ بے مثال، بی بی آمِنہ کے لال صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا :اپنی شرم گاہ کی حفاظت کرو ،لوگوں کے سامنے رُسوا نہیں ہوگے۔
کامیاب کون ؟
اللہعَزَّوَجَلَّ نے فلاح کو پہنچنے والے (یعنی کامیابی کو پا لینے والے)مؤمنین کا تذکرہ کرتے ہوئے قرآن پاک میں ارشاد فرمایا :
وَالَّذِیۡنَ ہُمْ لِفُرُوۡجِہِمْ حٰفِظُوۡنَ ۙ﴿۵﴾اِلَّا عَلٰۤی اَزْوَاجِہِمْ اَوْ مَا مَلَکَتْ اَیۡمَانُہُمْ فَاِنَّہُمْ غَیۡرُ مَلُوۡمِیۡنَ ۚ﴿۶﴾فَمَنِ ابْتَغٰی وَرَآءَ ذٰلِکَ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الْعٰدُوۡنَ ۚ﴿۷﴾(پ۱۸،المومنون:۵،۶،۷)
ترجمہ کنزالایمان :اور وہ جو اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں مگر اپنی بی بیوں یا شرعی باندیوں پر جو ان کے ہاتھ کی ملک ہیں کہ ان پر کوئی ملامت نہیں تو جو ان دو کے سواکچھ اور چاہے وہی حد سے بڑھنے والے ہیں۔
شرم گاہ کی حفاظت کا مطلب
مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر ت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّان شرم گاہوں کی حفاظت کا مطلب بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں :اس طرح کہ زنا اور لوازِمِ زناسے بچتے ہیں حتی کہ غیر کا ستر بھی دیکھتے نہیں۔(نور العرفان ،پ۱۸،المومنون،زیر آیت:۵)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد