Brailvi Books

اَعرابی کے سوالات اور عَرَبی آقا کے جوابات
79 - 118
ورع واحتیاط مسلمانوں کی نفرت ووحشت یا اُن کی رُسوائی وفضیحت یا تجسّسِ عیوب ومعصیت کا باعث نہ ہو کہ یہ سب امور ناجائز ہیں اور شکوک وشبہات میں ورع نہ برتنا ناجائز نہیں۔ عجب کہ امرِ جائز سے بچنے کے لئے چند ناروا باتوں کا ارتکاب کرے یہ بھی شیطان کا ایک دھوکا ہے کہ اسے محتاط بننے کے پردے میں محض غیر محتاط کردیا۔ اے عزیز!مداراتِ خَلْق واُلفت ومُوانست (یعنی لوگوں سے اچھی طرح پیش آنا اور الفت ومحبت کا برتاؤ کرنا )اہم امور سے ہے۔ (فتاوی رضویہ مخرجہ، ۴؍۵۲۶)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
پرہیز گاری یا بدگمانی 
	حضرت سیدنا یاقوت رحمۃُ اللہ تعالٰی علیہ کا بیان ہے کہ ایک شخص نے میرے سامنے کھانا رکھا اور اسے کھانے پر اِصرار کیا۔میں نے اس کھانے پر ظلمت (یعنی تاریکی) دیکھی تو کہا:’’یہ حرام ہے‘‘ اور نہیں کھایا۔پھر میں حضرت سیدنا مُرْسِی علیہ رحمۃُ اللہِ القویکی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے ارشاد فرمایا:مریدین کی جہالت میں سے ایک بات یہ بھی ہے کہ ان کے سامنے کھانا رکھا جائے اور وہ اس کھانے پرتاریکی دیکھیں تو کہتے ہیں :یہ حرام ہے۔اے مسکین!تمہاری پرہیز گاری اپنے مسلمان بھائی کے بارے میں تمہاری بدگمانی کے برابر نہیں ہے۔تم نے یہ کیوں نہ کہا کہ اللہعَزَّوَجَلَّ نے میرے لئے اِس کھانے کا ارادہ نہیں فرمایا۔ (فیض القدیر۱/۳۷۳،تحت الحدیث:۴۶۲)