بدگمانی دوسرے مُوحِش (یعنی وحشت میں ڈالنے والی) باتیں ، تیسرے بزرگوں کا ترکِ ادب۔ اور (یہ خواہ مخواہ کا متقی بننے والا) یہ گمان نہ کرے کہ خفیہ تحقیقات کر لوں گا، حاشا وکلّا!اگر اسے خبر پہنچی اور نہ پہنچنا تعجب ہے کہ آج کل بہت لوگ پرچہ نویس (یعنی باتیں پھیلانے والے)ہیں تو اس میں تنہا بَررُو (یعنی اکیلے میں اس سے) پوچھنے سے زیادہ رنج کی صورت ہے کَمَاھُوَ مُجَرَّبٌ مَعْلُوْمٌ(جیسا کہ تجربہ سے معلوم ہے۔ ت) نہ یہ خیال کرے کہ احباب کے ساتھ ایسا برتاؤ برتوں گا ہیہات اَحِبّا (دوستوں )کو رنج دینا کب روا ہے؟ اور یہ گمان کہ شاید اِیذا نہ پائے ، ہم کہتے ہیں شاید اِیذا پائے، اگر ایسا ہی ’’شاید‘‘ پر عمل ہے تو اُس کے مال وطعام کی حِلّت وطہارت میں ’’ شاید‘‘ پر کیوں نہیں عمل کرتا۔ مع ہذا اگر اِیذا نہ بھی ہُوئی اور اُس نے براہِ بے تکلفی بتادیا تو ایک مسلمان کی پردہ دری ہوئی (یعنی عیب کھل گیا)کہ شرعاً ناجائز۔ غرض ایسے مقامات میں وَرع واحتیاط کی دو ہی صورتیں ہیں : یا تو اس طور پر بچ جائے کہ اُسے (یعنی مہمان نواز کو) اِجتناب ودامن کشی پر اطلاع نہ ہو یا سوال وتحقیق کرے تو اُن امور میں جن کی تفتیش مُوجِبِ اِیذا نہیں ہوتی مثلاً کسی کا جوتا پہنے ہے وُضو کرکے اُس میں پاؤں رکھنا چاہتا ہے دریافت کرلے کہ پاؤں تَر ہیں یوں ہی پہن لوں وَعَلٰی ہٰذَا الْقِیَاس یا کوئی فاسِق بیباک مجاہر مُعلِن اس درجہ وقاحت وبے حیائی کو پہنچا ہوا ہو کہ اُسے نہ بتا دینے میں باک ہو، نہ دریافت سے صدمہ گزرے ، نہ اُس سے کوئی فتنہ متوقع ہو نہ اظہارِ ظاہر میں پردہ دَری ہو تو عندالتحقیق اُس سے تفتیش میں بھی جرح نہیں ، ورنہ ہرگز بنامِ