Brailvi Books

اَعرابی کے سوالات اور عَرَبی آقا کے جوابات
77 - 118
وَجْہَہُ الْکَرِیْمنماز سے فراغت کے بعد اس شخص  کے خچر پکڑنے کے عوض اسے دینے کے لئے دو درہم لیکر مسجد سے باہر تشریف لائے تو ملاحظہ فرمایا کہ خچر بغیر لگام کے کھڑا ہے۔آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ خچر پر سوار ہوکر گھر تشریف لائے اور اپنے غلام کو وہ دو درہم دے کر لگام خریدنے کے لئے بھیجا۔غلام بازارسے وہی لگام خرید کر لایا جسے چور نے دو درہم کے عوض فروخت کیا تھا۔ حضرت سیدنا علی المرتضی کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمنے ارشاد فرمایا:بے شک بندہ بے صبری کرکے اپنے آپ کو حلال روزی سے محروم کردیتا ہے اور اس کے باوجود اپنے مقدرسے زیادہ حاصل نہیں کرپاتا۔(المستطرف،۱/۱۲۴)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! 		صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
کسی کے کھانے کے بارے میں تفتیش نہ کی جائے 
	 اعلیٰ حضرت رَحمَۃُ اللہ تعالٰی علیہفرماتے ہیں :شرعِ مطہر میں مصلحت کی تحصیل سے مُفْسِدہ (یعنی نقصان دہ چیز)کا اِزالہ مُقَدَّم تَر ہے مثلاً مسلمان نے دعوت کی (اور)یہ اس کے مال وطعام کی تحقیقات کر رہے ہیں کہاں سے لایا؟ کیونکر پیدا کیا؟ حلال ہے یا حرام؟ کوئی نجاست تو اس میں نہیں ملی ہے ؟کہ بیشک یہ باتیں وحشت دینے والی ہیں اور مسلمان پر بدگمانی کرکے ایسی تحقیقات میں اُسے اِیذا دینا ہے خصوصاً اگر وہ شخص شرعاً معظم ومحترم ہو، جیسے عالمِ دین یا سچا مرشد یا ماں باپ یا استاذ یا ذی عزت مسلمان سردارِ قوم تو اِس نے (تحقیقات کر کے) اور بے جا کیا، ایک تو