چالیس دن تک قبولیت سے محروم
ایک مرتبہ حضرت سیدناسعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالٰی عنہ نے بارگاہِ رسالت میں عرض کی : ’’یارسولَاللہصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم!کیا وجہ ہے کہ میں دعا کرتا ہوں لیکن قبول نہیں ہوتی ؟ سرکارِ دوعالَم، نورِ مجسمصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:’’ اے سعد ! حرام سے بچو! کیونکہ جس کے پیٹ میں حرام کا لقمہ پڑ گیا وہ چالیس دن تک قبولیت سے محروم ہوگیا۔‘‘(تنبیہ الغافلین،باب الدعا،ص۲۱۷)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
دُعاقبول نہ ہونے کاسبب
ایک مرتبہ حضرت سیِّدُنا موسیٰ کلیمُ اللہ عَلٰی نَبِیِّنا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کسی مقام سے گزرے تودیکھاکہ ایک شخص ہاتھ اٹھائے رو رو کر بڑے رِقَّت انگیز انداز میں مصروفِ دعا تھا۔ حضرت سیِّدُنا موسیٰ کلیم اللہ عَلٰی نَبِیِّنا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام اسے دیکھتے رہے پھربارگاہِ خدا عَزَّوَجَلَّ میں عَرْض گزار ہوئے: اے میرے رحیم وکریم پروردگار! عَزَّوَجَلَّ تُو اپنے اس بندے کی دعا کیوں نہیں قبول کررہا؟ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے آپ عَلٰی نَبِیِّنا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کی طرف وحی نازل فرمائی: اے موسیٰ! اگر یہ شخص اتنا روئے، اتنا روئے کہ اس کا دَم نکل جائے اور اپنے ہاتھ اتنے بلند کرلے کہ آسمان کو چھولیں تب بھی میں اس کی دُعا قبول نہ کرو ں گا۔ حضرتِ سیِّدُنا موسیٰ کلیم اللہ عَلٰی نَبِیِّنا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام نے عرض کی: میرے مولیٰ! عَزَّوَجَلَّ اس کی کیا وجہ ہے ؟ارشاد