Brailvi Books

اَعرابی کے سوالات اور عَرَبی آقا کے جوابات
71 - 118
کیونکہ غُصّہ اِنسان کو قطعِ تعلق کی طرف لے جاتا اور نرمی سے روکتا ہے اور بسا اوقات یہ انسان کو مَغْضُوْب عَلَیْہ (جس پر غُصّہ آیا ہے اس)کی اِیذار سانی پر اُبھارتا ہے اور اس سے دین میں کمی آتی ہے۔(فتح الباری، کتاب الادب، باب الحذر من الغضب، ۱۰؍۴۳۹،ملخصاً )
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
غصہ نہ کرتے 
	راویٔ حدیث حضرت سیدنا عبداللہ بن عون رحمۃُ اللہ تعالٰی علیہ غصہ نہیں فرماتے تھے،کوئی آپ کو غصہ دلانے کی کوشش کرتا تو ارشاد فرماتے:  بَارَکَ اللہُ فِیْکَ اللہعَزَّوَجَلَّتمہیں برکت عطا فرمائے۔(سیر اعلام النبلاء ،۶/۵۱۳)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! 		صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
بہتر کون اور بُرا کون؟
	 سرکارِنامدار، مدینے کے تاجدار صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمنے ارشاد فرمایا:آدمیوں میں سے بعض کو جلد غصہ آتا اور جلد چلا جاتا ہے پس ایک دوسرے کے ساتھ ہے ۱؎    ان میں سے بعض کو دیر سے غصہ آتا اور دیر سے جاتا ہے پس ایک دوسرے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینہ
۱؎: یعنی ان دونوں خصلتوں(غصے کا جلدی آنا اور جلدی چلے جانا)میں سے ہر ایک دوسرے کے مقابلے میں ہے لہٰذا ان کا فاعل(جسے غصہ جلد آتا اور جلد چلا جاتا ہے) عقلی طور پرتعریف یا مذمت کا مستحق نہیں کیونکہ اس میں دونوں حالتیں برابر ہیں لہٰذا نہ تو اسے دیگر لوگوں سے اچھا کہا جاسکتا ہے اور نہ ہی برا۔(مرقاۃ ، کتاب الاٰداب،باب الامر بالمعروف،۸/۸۷۷،تحت الحدیث:۵۱۴۵)