Brailvi Books

اَعرابی کے سوالات اور عَرَبی آقا کے جوابات
70 - 118
غصہ نہ کرو
	حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ ایک شخص نے نَبِیِّ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں عرض کی :مجھے وصیت فرمائیے!  آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمنے فرمایا :غصہ مت کرو۔ اس نے کئی بار یہی سوال دُہرایا آپصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ہر بار یہی فرمایا کہ لَا تَغْضَب غصہ مت کیا کرو۔(بخاری، کتاب الادب، باب الحذر من الغضب، ۴؍۱۳۱،حدیث:۶۱۱۶)
 غصہ نہ کرنے سے کیا مراد ہے؟
 	علَّامہ اِبنِ حَجَرعَسْقَلانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی لکھتے ہیں : علامہ خطابی علیہ رحمۃُ اللہِ الہادی نے فرمایا : لَاتَغْضَبْ کے معنی ہیں کہ غصے کے اسباب سے بچ اور غصے کی وجہ سے جو کیفیت ہوتی ہے اسے اپنے اوپر طاری مت کر ، یہاں پر نفسِ غُصّہ سے منع نہیں کیاگیا کیونکہ وہ تو طبعی چیز ہے جو کہ انسان کی فطرت میں موجود ہوتا ہے۔ بعض حضرات فرماتے ہیں کہ جنہوں نے بارگاہِ رسالت میں نصیحت کی درخواست کی تھی شاید ان کا مزاج بہت تیز اورطبیعت میں غصہ زیادہ تھا اورمُبَلِّغِ اعظم، نَبِیِّ مُکَرَّمْ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی یہ عادتِ مبارکہ تھی کہ ہر ایک کو اس کی طبیعت کے مطابق حکم ارشاد فرماتے اسی لئے آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے انہیں غصہ ترک کرنے کی وصیت فرمائی۔حضرت اِبْنِ تِیْن عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْمَتِیْن فرماتے ہیں کہ حضورصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اپنے اس جملے لَاتَغْضَبْ میں دنیا و آخرت کی بھلائی جمع فرمادی