(رحمہم اللہ المبین)نے فرمایا:جو ہمیشہ باوُضو رہے اللہ تعالیٰ اُس کو سات فضیلتوں سے مُشرّف فرمائے :{1} ملائکہ اس کی صُحبت میں رَغبت کریں {2} قَلم اُس کی نیکیاں لکھتا رہے{3} اُس کے اَعضاء تسبیح کریں {4} اُس سے تکبیرِ اُولیٰ فوت نہ ہو {5}جب سوئے اللہ تعالیٰ کچھ فِرِشتے بھیجے کہ جِنّ و انس کے شَر سے اُس کی حِفاظت کریں {6}سکراتِ موت اس پر آسان ہو{7} جب تک باوُضو ہو اَمانِ الٰہی میں رہے ۔ (فتاوٰی رضویہ مخرجہ ،۱/۷۰۲)
دے شوقِ تلاوت دے ذَوقِ عبادت
رہوں بَاوُضو میں سدا یاالٰہی(وسائلِ بخشش ،ص۱۰۲)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
رِزْق میں بَرَکت کا بے مثال وظیفہ
شیخِ طریقت امیرِ اہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ اپنے رسالے ’’چڑیا اور اندھا سانپ‘‘ کے صفحہ 27پر لکھتے ہیں :ایک صَحابی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے عرض کی: یَارَسُولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ! دنیا نے مجھ سے پیٹھ پھیرلی ۔ فرمایا: کیا وہ تسبیح تمہیں یا دنہیں جو تسبیح ہے فرشتوں اور مخلوق کی جس کی بَرَکت سے روزی دی جاتی ہے، جب صبحِ صادق طلوع ہو تو یہ تسبیح ایک سو بار پڑھا کرو، ’’سُبْحٰنَ اللہِ وَبِحمْدِہٖ، سُبْحٰنَ اللہِ الْعَظِیْمِ ،اَسْتَغْفِرُ اللہ‘‘دنیا تیرے پاس ذلیل ہو کر آئے گی۔ وہ صحابی چلے گئے کچھ مدّت ٹھہر کر دوبارہ حاضر ہوئے،عرض کی : یَارَسُولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ! دنیا