ایک لاکھ دینار اور محتاجی کا شکوہ
منقول ہے کہ ایک بزرگ رحمۃُ اللہ تعالٰی علیہبہت زیادہ محتاج ہوگئے اور پریشان حالی نے اُن کے گھر میں بسیرا کرلیا ۔ ایک رات وہ سوئے تو خواب میں کسی نے کہا : کیا تم یہ چاہتے ہو کہ تمہیں ’’سورۂ ھُود‘‘ بھول جائے اور تمہیں ہزار دینار مل جائیں ؟ بولے : نہیں۔ کہا :اور اگر سورۂ یُوسُف ؟ بولے : نہیں۔ (یونہی 100 سورتوں کے بارے میں سوالات کئے اور سب کے جواب میں انہوں نے ’’نہیں ‘‘ بولا) ۔ کہا : تمہارے پاس تو ایک لاکھ دینار کا مال ہے پھر بھی تم محتاجی کا شکوہ کر تے ہو ؟ جب صبح ہوئی تو اس خواب کی وجہ سے ان کا غم دور ہو چکا تھا ۔(منہاج القاصدین،کتاب الصبر والشکر،ص۱۱۲۲)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
بخار کا تذکرہ زبان پر نہیں لائے
حَنْبَلِیُوں کے عظیم پیشوا حضرتِ سیِّدُنا اِمام اَحمد بن حنبل رحمۃُ اللہ تعالٰی علیہ سے کسی نے پوچھا : اے ابو عبدُ اللہ ! آپ کیسے ہیں ؟ فرمایا : خیر و عافیت سے ہوں۔ کہنے لگا : سنا ہے کل رات آپ کو بخار تھا ؟ فرمایا : جب تمہیں کہہ چکا ہوں کہ خیر و عافیت سے ہوں تو کافی ہے ، جو بات کہنا نہیں چاہتا وہ مت پوچھو ۔ (منہاج القاصدین،کتاب الصبر والشکر،ص۱۰۵۶)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد