Brailvi Books

اَعرابی کے سوالات اور عَرَبی آقا کے جوابات
61 - 118
علیہ رحمۃُ اللہِ القویکا بیان ہے: ایک مرتبہ اعلیٰ حضرت( رحمۃُ اللہ تعالٰی علیہ) علیل تھے ، میں عیادت کو گیا ،حسبِ محاورہ پوچھا: حضور! اب شکایت کا کیا حال ہے ؟ فرمایا: شکایت کس سے ہو ؟اللہ سے نہ تو شکایت پہلے تھی نہ اب ہے ، بند ہ کو خدا سے کیسی شکایت!(صَدرُ الشَّریعہ رحمۃُ اللہ تعالٰی علیہ فرماتے ہیں :) میں نے زندگی بھر کے لئے اس محاورے سے توبہ کر لی ۔(فتاویٰ امجدیہ ،۲/۳۸۸)
بخار کی شکایت،درد کی شکایت؟
	اعلیٰ حضرت، امامِ اہلِسنّت، مجدِّدِ دین وملّت ،مولانا شاہ امام احمد رضاخان علیہ رحمۃ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں :عوام و خواص کے یہ بھی زبان زدہے کہ بخار کی شکایت ہے ،دردِ سر کی شکایت ہے، زکام کی شکایت ہے ،وغیرہ وغیرہ ۔ یہ نہ (کہنا )چاہیے، اس لیے کہ جملہ اَمراض کا ظہور مِنْجانِبِ اللہہوتا ہے تو شکایت کیسی !(حیاتِ اعلیٰ حضرت ،۳ /۹۴)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! 		صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
شکوہ عبادت کی لذت کو ختم کردیتا ہے 
	مشہور بزرگ حضرتِ سیِّدُنا شَقِیق بَلْخِی علیہ رحمۃُ اللہِ القویفرماتے ہیں : جس نے اپنی مصیبت کاکسی سے شکوہ کیا اسے کبھی عبادت کی لذت نصیب نہیں ہوگی ۔(منہاج القاصدین،کتاب الصبر والشکر،ص۱۰۵۶)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! 		صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد