خاتَمُ الْمُرْسَلین، رَحمَۃٌ لِّلْعٰلمینصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمنے ارشاد فرمایا:لوگوں کے سامنے اللہعَزَّوَجَلَّ کے بارے میں شکوہ وشکایت مت کرو،سب سے زیادہ عزت دار بن جاؤ گے۔
مخلوق کے سامنے شکایت نہ کرو
حضرتِ سیِّدُنا وَہب بن مُنبہ رحمۃُ اللہ تعالٰی علیہ فرماتے ہیں : اللہعَزَّوَجَلَّ نے حضرتِ سیِّدُنا عُزیر عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کی طرف وحی فرمائی کہ جب بھی کوئی مصیبت نازِل ہو تومخلوق سے اس کی شکایت کرنے سے بچو اورمیرے ساتھ اسی طرح معاملہ کرو جس طرح میں کرتا ہوں کہ جب مجھ تک تیرے خلافِ اَولی اعمال پہنچتے ہیں تومیں فرشتو ں کے سامنے ظاہر نہیں کرتا اسی طرح جب تجھ پر مصیبت نازل ہوتو میری مخلوق سے میر ی شکایت نہ کر۔(تنبیہ المغترین،ص۱۷۳)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
اعلیٰ حضرت، امامِ اہلِسنّت، مجدِّدِ دین وملّت ،مولانا شاہ امام احمد رضاخان علیہ رحمۃ الرَّحْمٰن مختلف اوقات میں مختلف قسم کی جسمانی بیماریوں میں مبتلا رہے لیکن کسی طرح کا شکوہ وشکایت منقول نہیں بلکہ آپ رحمۃُ اللہ تعالٰی علیہنے آزمائشوں میں بھی صبرکا دامن تھامااور شدیدتکلیف میں بھی اللہعَزَّوَجَلَّ کا شکر ادا کیا،چنانچہ
شکایت کیسی؟
صَدرُ الشَّریعہ،بدرُ الطَّریقہحضرتِ علّامہ مولانامفتی محمد امجد علی اعظمی