آکر قحط سالی کی شکایت کی تو آپ نے فرمایا : اِستغفار کرو ۔ دوسرے نے غربت و اِفلاس کی شکایت کی تو فرمایا : اِستغفار کرو ! ، تیسرے نے نرینہ اولاد کے لئے دعا کی عرض کی ، فرمایا : اِستغفار کرو ۔ چوتھے شخص نے آکر اپنے باغ کے خشک ہوجانے کا ذکر کیا تو بھی آپ نے فرمایا : اِستغفار کرو ۔ کسی نے پوچھا : آپ کے پاس چار آدمی الگ الگ مسئلہ لے کر آئے اور آپ نے سب کو اِستغفار کا حکم دیا ؟ آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا : میں نے اپنی طرف سے تو کوئی بات نہیں کہی ، اللہعَزَّوَجَلَّ سورہ نوح میں ارشاد فرماتا ہے :
اِسْتَغْفِرُوۡا رَبَّکُمْؕ اِنَّہٗ کَانَ غَفَّارًا ﴿ۙ۱۰﴾ یُّرْسِلِ السَّمَآءَ عَلَیۡکُمۡ مِّدْرَارًا﴿ۙ۱۱﴾ وَّ یُمْدِدْکُمْ بِاَمْوَالٍ وَّ بَنِیۡنَ وَ یَجْعَلۡ لَّکُمْ جَنّٰتٍ وَّ یَجْعَلۡ لَّکُمْ اَنْہٰرًا ﴿ؕ۱۲﴾(پ۲۹، النوح : ۱۰) ترجمہ کنز الایمان : اپنے رب سے معافی مانگو، بے شک وہ بڑا معاف فرمانے والا ہے، تم پر شرّاٹے کا مینھ (یعنی موسلا دھار بارش) بھیجے گا ، اور مال اور بیٹوں سے تمہاری مدد کرے گا،اور تمہارے لئے باغ بنادے گا اور تمہارے لئے نہریں بنائے گا ۔
(الجامع لاحکام القران،پ۲۹،النوح،تحت الآیۃ :۱۰،۹/۲۲۲،جزء:۱۸)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
(۱۴) شکوہ وشکایت مت کرو
اَعرابی کا چودھواں سوال یہ تھا کہ معزز یعنی زیادہ عزت والا بننا چاہتا ہوں۔