زاہداں اَز گناہ توبہ کُنَنْدْ عارفاں اَز اطاعت اِستغفار
(نیک لوگ گناہوں سے جبکہ معرفت رکھنے والے اپنی نیکیوں سے توبہ کرتے ہیں )
(مراۃ المناجیح،۲/۳۴)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
گناہ کیسے گن لیتے تھے؟
ہمارے اَسلاف رَحِمَہُمُ اللہُ تعالٰی اپنے گناہوں کی قلت کے سبب انہیں گِن کر رکھتے تھے۔حضرت سیدنا ریاح القیسی علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں : میرے چالیس سے کچھ زیادہ گناہ ہیں اور میں نے ہر گناہ کیلئے ایک لاکھ مرتبہ اِستغفار کیا ہے۔حضرت سیدنا امام ابن سِیرینعلیہ رحمۃ اللہ المبین مقروض ہوگئے تو آپ نے ارشاد فرمایا:میں نے چالیس سال پہلے ایک گناہ کا ارتکاب کیا تھا یہ اس کی سزا ہے، میں نے ایک شخص کو ’’اے مُفْلِس‘‘کہہ دیا تھا۔حضرت سیدنا ابوسلیمان علیہ رحمۃ اللہ المنان سے اس بات کا ذکر کیا گیا تو آپ نے ارشاد فرمایا:ان حضرات کے گناہ تھوڑے ہوتے تھے اس لئے انہیں پتہ چل جاتا تھا کہ یہ مصیبت کس گناہ کے باعث آئی ہے جبکہ ہم لوگوں کے گناہ کثیر ہیں اس لئے ہمیں اس بات کا پتہ نہیں چلتا ۔(رسائل ابن رجب،۱/۳۶۴ )
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
چار مسائل کا ایک ہی حل
حضرتِ سیِّدُنا حسن بصری رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کی خدمت میں ایک شخص نے