Brailvi Books

اَعرابی کے سوالات اور عَرَبی آقا کے جوابات
56 - 118
بچے نکل کر اُڑنے کے قابل نہ ہوجائیں اس کو باقی رکھو ۔ پھر آپ رضی اللہ تعالٰی عنہنے کسی کو اس خیمے کی حفاظت پر مقرر بھی کردیا اور اِسْکَنْدَرِیہ جنگ کے لئے روانہ ہوگئے اور اُسے فتح کرلیا ،جنگ سے فراغت کے بعد آپ رضی اللہ تعالٰی عنہنے اپنے ساتھیوں سے پوچھا کہ کہاں ٹھہرنے کا ارادہ ہے ؟ وہ بولے : آپ کے اسی خیمے پر ہی واپس چلتے ہیں کیونکہ وہاں پانی بھی ہے اور وسیع صحرا بھی ، اس کے بعد وہ سب وہیں لوٹ آئے اور ہر قوم نے حد بندیاں کر کے گھر بنانا شروع کردئیے ، (یوں یہ شہر آباد ہوا )  اور اس کا نام’’فُسْطَاطْ‘‘ (خیمہ) رکھ دیا گیا ۔ (آثار البلاد و اخبار العباد،۱/۲۳۶)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! 		صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
تینوں روٹیاں کتے کو کِھلا دیں 
	 ایک مرتبہ حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن جعفر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ اپنی زمین کو دیکھنے نکلے ۔راستے میں ایک باغ سے گزرے تو آپ نے دیکھا وہاں ایک سیاہ فام غلام کام کررہا ہے۔ جب اس کا کھانا آیا تو اسی وقت ایک کتابھی باغ میں داخل ہوا اور غلام کے قریب ہو گیا۔غلام نے ایک روٹی اس کے سامنے ڈال دی، کتے نے وہ کھالی پھر دوسری ڈالی تووہ بھی اس نے کھالی غلام نے تیسری روٹی بھی ڈال دی تو کتا وہ بھی کھا گیا ۔ حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن جعفر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ یہ سب کچھ مُلاحَظہ فرمارہے تھے۔ آپ نے غلام سے پوچھا:تمہیں دن میں کتنا کھانا ملتا ہے؟ اس نے کہا: وہی کچھ جو آپ نے دیکھا۔ پوچھا : تم نے سارا کھانا اس کتے کو کیوں کھلا دیا؟ اس نے کہا: اس