(۱۲) اپنی جان اور مخلوق پر رحم کرو
اَعرابی کا بارہواں سوال یہ تھا کہ میں چاہتا ہوں کہ اللہعَزَّوَجَلَّ مجھ پر رحم فرمائے۔سرکارِ عالی وقار، مدینے کے تاجدارصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمنے فرمایا:اپنی جان پر اور مخلوقِ خدا پر رحم کرو ، اللہعَزَّوَجَلَّ تم پر رحم فرمائے گا۔
مسکین پر رحم کرو
منقول ہے کہ بنی اسرائیل میں ہر بادشاہ کے ساتھ ایک دانا شخص ہوتا تھا ، جب بادشاہ کوغصہ آتا تو وہ اسے ایک کاغذ دیتا جس پر لکھا ہوتا :مسکین پر رحم کرو، موت سے ڈرو اور آخرت کو یاد رکھو!بادشاہ اسے پڑھتا تو اس کا غصہ ٹھنڈاہوجاتا ۔(احیاء علوم الدین،کتاب ذم الغضب،بیان علاج الغضب،۳/۲۱۴)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
کبوتری کی خاطر خیمہ نہیں اُکھاڑا
’’فُسْطَاطْ‘‘ ملکِ مصْر کا ایک مشہور شہر ہے ، اس کی بنیاد صحابیٔ ٔرسولحضرتِ سیِّدُنا عَمرو بن عاص رضی اللہ تعالٰی عنہنے رکھی تھی ، جس کا واقعہ یوں بیان کیا جاتا ہے کہ جب آپ رضی اللہ تعالٰی عنہمصْر فتح کرنے کے بعد ۲۰ھ میں اِسْکَنْدَرِیہ روانہ ہونے لگے تو اپنا خیمہ اکھاڑنے کا حکم دیا ، حکم کی تعمیل کی جانے لگی تو نظر آیاکہ اس کے اوپر تو ایک کبوتری نے انڈے دے رکھے ہیں ، یہ دیکھ کر آپ رضی اللہ تعالٰی عنہنے فرمایا : ہم اپنے پڑوسی کا بھی احترام کرتے ہیں ، جب تک ان انڈوں سے