Brailvi Books

اَعرابی کے سوالات اور عَرَبی آقا کے جوابات
54 - 118
کھوٹاسکہ
	راہِ خدا میں جہاد کرنے والے ایک بزرگ رحمۃُ اللہ تعالٰی علیہ  اپنا واقعہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ایک بار میں اپنے گھوڑے پر سوار ہوا تا کہ ایک موٹے اور طاقتور غیر مسلم کو قتل کروں لیکن میرے گھوڑے نے کوتاہی کی تو میں واپس لوٹ آیا ، پھر وہ موٹا غیرمسلم میرے قریب ہوا تو میں نے پھر اس پر حملہ کیا لیکن اس بار بھی گھوڑے نے کوتاہی کی ۔ پس میں واپس لوٹ آیا ، جب میں نے تیسری بار حملہ کیا تو میرا گھوڑا مجھ سے بھاگ گیا حالانکہ اس کی یہ عادت نہ تھی ۔ چنانچہ ، میں غمگین ہو کر واپس لوٹا اور شکستہ دل سر جھکا کر بیٹھ گیا کیونکہ وہ غیر مسلم میرے ہاتھوں قتل ہونے سے رہ گیا تھا نیز گھوڑے کی ایسی عادت میں نے کبھی نہ دیکھی تھی تو میں نے خیمہ کے ستون پر اپنا سر رکھاجبکہ میرا گھوڑا کھڑا تھا ۔ پھر میں نے ایک خواب دیکھا گویا کہ میرا گھوڑا مجھے مخاطب کرتے ہوئے کہہ رہاتھا : اللہعَزَّوَجَلَّ کو یاد کرو ! تم نے تین مرتبہ ارادہ کیا کہ تم میری پیٹھ پر سوار ہو کر غیرمسلم کو پکڑو حالانکہ کل جو تم نے میرے لئے چارہ خریدا تھا اس کی قیمت میں کھوٹا درہم دیا تھا ، تویہ(یعنی مجھ پر سوار ہو کرغیر مسلم کو مارنا) ہرگز نہیں ہو سکتا ۔ فرماتے ہیں : میں گھبرا کر بیدا رہوا اور اس چارہ بیچنے والے کے پاس جا کر وہ دِرہم تبدیل کیا ۔ امام محمدبن محمدغزالی علیہ رحمۃ اللہِ الوالیاس کے بعد لکھتے ہیں : یہ حکایت اس ظلم کی مثال ہے جس کا ضَرَر ونقصان عام ہے تودیگر مثالوں کو اسی پر قیاس کر لو ۔    (احیاء علوم الدین،کتاب آداب الکسب،الباب الثالث،۲/۹۵)