Brailvi Books

اَعرابی کے سوالات اور عَرَبی آقا کے جوابات
52 - 118
*قرابت داروں یا قرض خواہوں کا حق نہ دینا ان پر ظلم*کسی کو ستانا اِیذاء دینا اس پرظلم،یہ حدیث سب کو شامل ہے اور حدیث اپنے ظاہری معنٰے پر ہے یعنی ظالم پلصراط پر اندھیریوں میں گھرا ہوگا،یہ ظلم اندھیری بن کر اس کے سامنے ہوگا ،جیسے کہ مؤمن کا ایمان اور اس کے نیک اعمال روشنی بن کر اس کے آگے چلیں گے،رب تعالیٰ فرماتاہے: یَسْعٰی نُوۡرُہُمۡ بَیۡنَ اَیۡدِیۡہِمْ(وَ بِاَیۡمٰنِہِمۡ) {ترجمۂ کنزالایمان:ان کا نور ہے ان کے آگے اور ان کے دہنے دوڑتا ہے ۔(پ۲۷،الحدید:۱۲)}
	چونکہ ظالم دنیا میں حق ناحق میں فرق نہ کرسکا اس لیے اندھیرے میں رہا۔(مراۃ المناجیح،۳/۷۲)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
مظلوم کی بددعا مقبول ہے 
	 رسولِ اکرم ،نُورِ مُجَسَّمصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمنے ارشاد فرمایا: مظلوم کی بددعا سے بچو اگرچہ وہ کافر ہی ہوکیونکہ اس کے سامنے کوئی حِجاب نہیں ہوتا۔ (مسند احمد،۴ /۳۰۶،حدیث:۱۲۵۵۱)
	شارِح بخاری علامہ ابوالحسن علی بن خلف قُرطبی علیہ رحمۃُ اللہِ القوی شرح بخاری میں لکھتے ہیں :ظلم تمام شریعتوں میں حرام تھا،حدیثِ پاک میں ہے:مظلوم کی دعا رَد نہیں کی جاتی اگرچہ وہ کافر ہی کیوں نہ ہو۔اس حدیث کا معنی یہ ہے کہ  اللہعَزَّوَجَلَّجس طرح مومن پر ظلم کرنے سے ناراض ہوتا ہے اسی طرح کافر پر ظلم سے