کیجئے،کوئی دُعا بھی نہ پڑھئے،نَہانے کے بعدتَولیے وغیرہ سے بدن پُونچھنے میں حَرَج نہیں۔نہانے کے بعدفورًاکپڑے پہن لیجئے۔اگرمکروہ وقت نہ ہوتودو رَکعت نَفل اداکرنا مُستَحَب ہے۔ (عا لمگیری ج ۱ص۱۴ماخوذا،بہارِ شریعت ،۱/۳۱۹ وغیرہ)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
(۱۱) کسی پر ظلم مت کرو
اَعرابی کا گیارہواں سوال یہ تھا کہ میں چاہتا ہوں کہ روزِ قیامت میرا حشر نورمیں ہو۔ سرکارِمدینۂ منوّرہ،سردارِمکّۂ مکرّمہصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمنے فرمایا:کسی پر ظُلْم مت کرو،تمہارا حشر نور میں ہوگا۔
ظلم قیامت کے دن اندھیرا ہوگا
حضرت سیدناجابر رضی اللہ تعالٰی عنہسے روایت ہے کہ رسولِ بے مثال، بی بی آمِنہ کے لال صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: ظلم سے بچو کیونکہ ظلم قیامت کے دن اندھیریاں ہوگا اور کنجوسی سے بچو کیونکہ کنجوسی نے تم سے پہلے والوں کو ہلاک کردیا کنجوسی نے انہیں رغبت دی کہ انہوں نے خون ریزی کی اورحرام کو حلال جانا ۔(مسلم،کتاب البر والصلۃ،باب تحریم الظلم،ص۳۹۴ا ،حدیث:۲۵۷۸)
مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر ت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّان اِس حدیثِ پاک کے تحت لکھتے ہیں :ظلم کے لُغوی معنٰے ہیں کسی چیز کو بے موقعہ استعمال کرنا اورکسی کا حق مارنا۔اس کی بہت قسمیں ہیں :*گناہ کرنا اپنی جان پر ظلم ہے