تھے۔(سیر اعلام النبلاء،۹/۵۲۱)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
(۹) فرائض کا اہتمام کرو
اَعرابی کا نواں سوال یہ تھا کہ ( اللہعَزَّوَجَلَّ کا)فرمانبردار بننا چاہتا ہوں۔ تاجدارِ مدینہ سُرورِ قلب وسینہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمنے فرمایا: اللہعَزَّوَجَلَّ کے فرائض ۱؎ کا اہتمام کرو،اس کے مطیع( وفرمانبردار) بن جاؤ گے۔
نماز،روزہ ،زکوٰۃ اورحج کی اہمیت
حضرت سیدنا عبدُاللہ بن عمررضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت ہے کہ حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمنے ارشاد فرمایا: اسلام پانچ چیزوں پرقائم کیا گیا:اس کی گواہی کہ اﷲکے سوا کوئی معبود نہیں محمد(صلی اللہ علیہ وسلم)اس کے بندے اور رسول ہیں ،نمازقائم کرنا، زکوۃ دینا،حج کرنااور رمضان کے روزے۔(مسلم،کتاب الایمان، باب بیان ارکان الاسلام، ص۲۷، حدیث:۲۱)
مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر ت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّان اِس حدیثِ پاک کے تحت لکھتے ہیں :یعنی اسلام مثل خیمہ یاچھت کے ہے اور یہ پانچ ارکان اس کے پانچ ستونوں کی طرح کہ جو کوئی ان میں سے ایک کا انکار کرے گا وہ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینہ
۱؎:فرائض اللّٰہ سے مراد نماز ،روزہ ، زکوۃاور حج ہے ۔(انظر:بہشت کی کنجیاں،ص۱۶۸)لسان العرب میں لفظِ فرض کے تحت ہے:وفَرائضُ اللّٰہِ حُدودُہ التی أَمرَ بہا ونہَی عنہافرائض اللّٰہ سے مراداللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی وہ حدود ہیں جن کا اس نے حکم دیا اور منع فرمایا ہے۔(لسان العرب،۲/۳۰۱۰)