بال بچوں پر مہربان ہو۔(ترمذی،کتاب الایمان ،باب ما جاء فی استکمال الایمان،۴ /۲۷۸،حدیث:۲۶۲۱)
مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر ت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّان اِس حدیثِ پاک کے تحت لکھتے ہیں :مؤمن کا تعلق خالق سے بھی ہے مخلوق سے بھی، خالق سے عبادات کا تعلق ہے مخلوق سے معاملات کا، عبادات دُرُست کرنا آسان ہے مگر معاملات کا سنبھالنا بہت مشکل ہے اسی لئے یہاں خلیق شخص کو کامل ایمان والا قرار دیا،پھر اجنبی لوگوں سے کبھی کبھی واسطہ پڑتا ہے مگر گھر والوں سے ہر وقت تعلق رہتا ہے ،ان سے اچھا برتاواکرنا بڑاکمال ہے ،اسلام مکمل انسانیت سکھاتا ہے۔(مراٰۃ المناجیح،۵ /۱۰۱)ایک اور مقام پر مفتی صاحب لکھتے ہیں : اچھی عادت سے عبادات اور معاملات دونوں دُرُست ہوتے ہیں ،اگر کسی کے معاملات تو ٹھیک مگر عبادات درست نہ ہوں یا اس کے اُلٹ ہو تو وہ اچھے اخلاق والا نہیں۔خوش خلقی بہت جامع صفت ہے کہ جس سے خالق اور مخلوق سب راضی رہیں وہ خوش خلقی ہے۔(مراٰۃ المناجیح،۶ /۶۵۲)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
ادب واخلاق سیکھتے تھے
منقول ہے کہ حضرت سیدنا امام احمد بن حنبل رحمۃُ اللہ تعالٰی علیہکی مجلس میں پانچ ہزار یا اس سے بھی زیادہ اَفراد حاضر ہوتے تھے جن میں سے پانچ سو کے لگ بھگ حدیثیں لکھتے تھے جبکہ باقی افراد آپ سے آداب اور اخلاقیات سیکھا کرتے