Brailvi Books

اَعرابی کے سوالات اور عَرَبی آقا کے جوابات
44 - 118
بی بی آمِنہ کے لال صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمنے فرمایا: اللہعَزَّوَجَلَّکی عبادت یوں کرو گویا تم اسے دیکھ رہے ہواور اگر تم اسے نہیں دیکھ رہے تو وہ تو تمہیں دیکھ ہی رہا ہے۔ 
	 مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر  ت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّانلکھتے ہیں : کہ اگر تُو خداکودیکھتا ہے توتیرے دل میں کس درجہ اس کاخوف ہوتااورکس طرح توسنبھل کرعمل کرتا،ایسے ہی خوف کیسا تھ دل لگا کر دُرُست عمل کر۔یوں تو ہر وقت ہی سمجھو کہ رب تمہیں دیکھ رہا ہے مگر عبادت کی حالت میں تو خاص طور پر خیال رکھو،تواِنْ شَآءَللہ(عَزَّوَجَلَّ)عبادت آسان ہوگی،دل میں حضور وعاجزی پیدا ہوگی، آنکھوں میں آنسو آئیں گے،اﷲ (عَزَّوَجَلَّ)ہم سب کو نصیب کرے۔آمین !(مراٰۃ المناجیح،۱ /۲۶)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! 		صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
سجدہ ہو تو ایسا !
	صحابیٔ رسول حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن زُبیر رضی اللہ تعالٰی عنہجب نماز پڑھتے تو خشوع وخضوع کی بناء پر ایک لکڑی معلوم ہوتے ، اور جب سجدہ کرتے تو چڑیاں آپ کو گری ہوئی دیوار سمجھ کر پیٹھ پر سوار ہوجاتیں۔ ایک دن آپ رضی اللہ تعالٰی عنہحطیمِ کعبہ میں نماز ادا فرما رہے تھے کہ مِنْجَنیق (پتھر پھینکنے کا آلہ)سے ایک پتھر آیا اور آپ کے کپڑے پھاڑتا ہوا نکل گیا مگر آپ رضی اللہ تعالٰی عنہنے نماز