Brailvi Books

اَعرابی کے سوالات اور عَرَبی آقا کے جوابات
112 - 118
برس گزر چکے تھے مگر میں علمِ دین سے اس قدر کورا تھا کہ مجھے نماز وروزے کے بنیادی شرعی احکام تک نہ معلوم تھے ۔ ایک دن میں مسجد میں نماز کے لیے حاضر ہوا تو مجھ سے ایک اسلامی بھائی نے ملاقات کی ، اسی دوران مدنی قافلے میں سفرکی دعوت بھی دی ۔ دعوت اسلامی کے مدنی ماحول سے ناآشنائی کے باعث میں نے شروع میں توانکار کر دیا مگر ہمارے محلے کی مسجد کے امام صاحب نے میری ہمت بندھائی اورمجھے مدنی قافلے میں سفرکے لئے آمادہ کر لیا۔ ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتماع کے بعد صبح مدنی قافلے نے سفر کرنا تھا۔اِجتماع کے اختتام پر میرے امیر قافلہ ڈھونڈتے ہوئے مجھ تک آپہنچے ،میں دنیا کی محبت کا شکار اتنی دیر مسجد میں رہنے سے اُکتا سا گیا تھااور مزید 3 دن مسجد میں رہنے سے گھبر ا رہاتھا،لہٰذا میں اپنے محسن پرہی غصہ کرنے لگا کہ ’’میں آپ کو نہیں جانتا مجھے کسی مدنی قافلہ میں نہیں جانا، آپ برائے کرم! مجھے گھر جانے دیں۔‘‘مگر امیرِ قافلہ نے میری توقعات کے برعکس مجھ پرغصہ کرنے کے بجائے اطمینان سے میری بات سنی اور نہایت شفقت اور نرمی سے مجھے سمجھانا شروع کیااورمنت سماجت کرتے ہوئے دوبارہ مدنی قافلے میں سفر پرراضی کر لیا ۔ مَدَنی قافلے کے پہلے ہی دن جب مدنی قافلے والوں نے سیکھنے سکھانے کے مدنی حلقے لگائے تو مجھے دل ہی دل میں بے حد ندامت ہوئی کہ مجھے توبنیادی مسائل بھی نہیں معلوم!اَ لْحَمْدُللّٰہعَزَّوَجَلَّ! عاشِقانِ رسول کی صحبت میں 3 دن گزارنے کے بعد میں بہت سارا علمِ دین مثلاً وضووغسل اورنماز کے احکام سیکھ کر اور دین متین کی خدمت کاجذبہ لے کر اس حال میں گھر پلٹاکہ میرے سر پر مدنی قافلے کی یاد دلاتا ہواسبز سبز