تھوڑی سی بھی کمزوری محسوس کریں تو نفل روزہ نہ رکھیں تاکہ حُصولِ علمِ دین اور نیکی کی دعوت کے افضل ترین کا م میں کمزوری رُکاوٹ نہ بنے (اگر علاوہ ازیں کارکردگی میں تَسلسُل ہے تو مدنی قافلے میں سفر کی وجہ سے رہ جانے والے روزوں سے تنظیماً دَرَجہ بندی پر اثر نہیں پڑے گا){۶} جہاں بھی نفل روزے کے سبب کسی افضل کام میں حَرَج واقع ہوتاہو وہاں روزہ نہ رکھے مَثَلاً اگر کسی اسلامی بھائی کی ذمّے داری اس نوعیت کی ہے جہاں عوام سے بکثرت واسِطہ پڑتا ہے اور روزہ رکھنے سے اس کے مزاج میں تُرشی پیدا ہوجاتی ہے تو اگرچِہ کام پورا ہو جاتا ہو لیکن لوگوں کے ساتھ بداخلاقی سے بچنا نفل روزوں کے مقابلے میں زیادہ ضَروری ہے {۷} ماں باپ اگر بیٹے کو نَفْل روزے سے اِس لئے منْع کریں کہ بیماری کا اندیشہ ہے تو والِدَین کی اطاعت کرے ۔ (رَدُّالْمُحتار،۳/ ۴۷۸ )۸}شوہر کی اجازت کے بِغیر بیوی نَفْل روزہ نہیں رکھ سکتی۔ (دُرِّمُخْتار، ۳/ ۴۷۷ )
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
نیکی کی دعوت دینے کا جذبہ ملا
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! نیکیوں پر اِستقامت پانے کے لئے دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے وابستہ رہیے اور اس کے مدنی قافلوں میں سفر کو اپنا معمول بنا لیجئے ،آپ کی ترغیب وتحریص کے لئے ایک مَدَنی بہار پیش کرتا ہوں :چُنانچِہ مرکزالاولیا (لاہور )کے ایک اسلامی بھائی کا بیان کچھ یوں ہے کہ میری عمر کے 25