ہے، البتّہ جو اپنی سَہولت کے مطابق مدنی ماہ میں سات روزے رکھ لے وہ بھی تنظیماً ’’بہتر‘‘ میں شمار ہو گا) {مناسِب} جو ہر پیر شریف کویا مجبوری ہو تو ہفتہ وارچُھٹّی والے دن روزہ رکھے (یوں مہینے میں چار یا پانچ روزے ہوں گے ) {۳} نَفْل روزہ قَصْد اً شروع کرنے سے پورا کرنا واجِب ہوجاتا ہے اگر توڑے گا تو قضا واجِب ہو گی ۔ (دُرِّ مُخْتار،۳/۴۷۳){۴} ملازِم یا مزدور اگر نفل روزہ رکھیں توکام پُورا نہیں کر سکتے تو ’’مُسْتَاجِر ‘‘(یعنی جس نے مُلازَمت یا مزدوری پر رکھا ہے اُس) کی اجازت ضَروری ہے اور اگر کام پورا کر سکتے ہیں تواجازت کی ضَرورت نہیں۔ ( ردالمحتار۳/ ۴۷۸)(اگر وقف کے ادارے میں ملازِم ہیں اور نَفْل روزہ رکھنے کی صورت میں کام پورا نہیں کر سکتے تو کسی کی اجازت کار آمد نہیں ، ملازَمت کرنے والے بارہا سمجھتے ہیں کہ روزے کی وجہ سے ان کے کام میں حَرَج واقِع نہیں ہورہا حالانکہ بسا اوقات بَہُت زیادہ رُکاوٹ پڑ رہی ہوتی ہے خُصُوصاً عوامی مقامات پر کام کرنے والے ، ہوٹلوں پر کھانا پکانے والے ،میزوں پر پہنچانے والے یا مزدور وغیرہا تو ان کا اپنے ذِہن میں ایک آدھ مرتبہ سمجھ لینا کافی نہیں کہ کام میں حَرَج نہیں ہورہا بلکہ نہایت غور کرلینا ضَروری ہے کہ کہیں نفل روزے کے شوق میں اِجارے کے کام میں سُستی کرکے حرام کمائی کمانے کے مرتکب نہ ہوں۔خُصُوصاً دینی مدارس کے اساتِذہ کو اس مسئلے کا خیال رکھنا زیادہ ضَروری ہے کہ انہیں تو کوئی نفل روزوں میں رخصت کی اجازت بھی نہیں دے سکتا) {۵}طالبِ علمِ دین اگر اپنی تعلیم میں معمولی سا بھی حَرَج دیکھے تو ہرگز نفل روزہ نہ رکھے بلکہ وہ ہفتہ وار چُھٹّی کے دن روزہ رکھ کر’’مناسِب‘‘ کا دَرَجہ حاصل کر سکتا ہے نیزمدنی قافلے کے مسافرین