Brailvi Books

اَعرابی کے سوالات اور عَرَبی آقا کے جوابات
107 - 118
 ہے؟‘‘ فرمایا: لوگوں میں سے وہ شخص سب سے اچھا ہے جو کثرت سے قراٰنِ کریم کی تِلاوت کرے،زیادہ متقی ہو،سب سے زیادہ نیکی کا حکم دینے اور برائی سے منع کرنے والا ہو اور سب سے زیادہ صِلَۂ رِحمی(یعنی رشتے داروں کے ساتھ اچھا برتاؤ ) کرنے والا ہو ۔	
(مسند احمد،۱۰/۴۰۲،حدیث: ۲۷۵۰۴)
 12ہزار درہم رشتے داروں کو بانٹ دیئے 
	امیرُالْمُؤمِنِین حضرت سیِّدنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اُمُّ الْمؤمِنین حضرتِ زینب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کی خدمت میں 12ہزار دِرہم بھیجے تو انہوں نے یہ رقم اپنے رشتے داروں کو تقسیم کر دی۔ 	(اسد الغابۃ ، ۷/۱۴۰ مُلَخّصاً)
صِلَۂ رِحْمی کرنے کے 10 فائدے 
       حضرتِ سیِّدُنا فقیہابواللَّیث سمرقندی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : صِلَۂ رِحْمی کرنے کے 10 فائدے ہیں : اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رِضا حاصل ہوتی ہے *لوگوں کی خوشی کا سبب ہے* فرشتوں کو مَسَرّت ہو تی ہے*مسلمانوں کی طرف سے اس شخص کی تعریف ہوتی ہے* شیطان کو اس سے رَنج پہنچتا ہے* عمربڑھتی ہے* رِزْق میں برکت ہو تی ہے*  فوت ہوجانے والے آباء و اجداد(یعنی مسلمان باپ دادا) خوش ہوتے ہیں* آپس میں مَحَبَّت بڑھتی ہے * وفات کے بعداس کے ثواب میں اِضافہ ہو جا تا ہے،کیونکہ لوگ اس کے حق میں دعائے خیر کرتے ہیں۔(تَنبیہُ الغافِلین،باب صلۃ الرحم، ص۷۳)