Brailvi Books

اَعرابی کے سوالات اور عَرَبی آقا کے جوابات
106 - 118
اِذْ نَادٰی رَبَّہٗ نِدَآءً خَفِیًّا ﴿۳﴾(پ۱۶،مریم:۳)
ترجمہ کنزالایمان:جب اس نے اپنے رب کو آہستہ پکارا۔
(تفسیر کبیر ،۵/۲۸۱)
 صِلَۂ رِحمی کی تعریف
	 شیخِ طریقت امیرِ اہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ اپنے رسالے ’’ہاتھوں ہاتھ پھوپھی سے صلح کرلی ‘‘ کے صفحہ5پر لکھتے ہیں :صِلَہ کے معنٰی ہیں : اِ یْصَالُ نَوْعٍ مِّنْ اَنْوَاعِ الْاِ حْسَان۔یعنی کسی بھی قِسم کی بھلائی اور احسان کرنا۔ (اَلزّواجِر ج۲ص۱۵۶) اور رِحم سے مراد: قرابت، رشتہ داری ہے۔ (لِسانُ العَرب ج۱ص۱۴۷۹)’’ بہارشریعت ‘‘میں ہے : صِلَۂ رِحْمکے معنیٰ:  رِشتے کو جوڑنا ہے یعنی رشتے والوں کے ساتھ نیکی اور سُلوک (یعنی بھلائی) کرنا۔               (بہار شریعت ۳/۵۵۸) 
	رِضائے الٰہی کے لیے رشتے داروں کے ساتھ صِلۂ رِحمی اور ان کی بدسلوکی پر انہیں در گزر کرنا ایک عظیم اَخلاقی خوبی ہے اور اللہعَزَّوَجَلَّ کے یہاں اس کا بڑا ثواب ہے ۔
بہترین آدَمی کی خُصُوصِیّات
    صاحبقراٰنِ مبین،مَحبوبِ ربُّ العٰلَمِین، جنابِ صادِق و امین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَایک مرتبہ منبر اقدس پر جلوہ فرما تھے کہ ایک صحابی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے عرض کی : ’’یَارَسُولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ لوگوں میں سب سے اچھا کون