پوشیدہ عمل افضل ہے
نبی پاک صاحبِ لولاک ،سیّاحِ افلاک صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: ـ ظاہری عمل کے مقابلے میں پوشیدہ عمل افضل ہے ۔(شُعَبُ الْاِیمان ، ۵/۳۷۶،حدیث:۷۰۱۲)
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
تھیلی تو ملتی مگر دینے والے کا پتا نہ چلتا
حضرتِ سیِّدُنا عامر بن عبدُاللہ بن زُبیر رحمۃُ اللہ تعالٰی علیہ ان بندوں کے پاس جو سجدے میں ہوتے درہم و دینار سے بھری تھیلیاں لے کر جاتے اور ان کی چَپَّلوں کے پاس ایسے انداز میں رکھ کر آجاتے کہ انہیں تھیلی کا تو پتہ چل جاتا مگر آپ رحمۃُ اللہ تعالٰی علیہکا پتہ نہیں لگ پاتا ۔ کسی نے ان سے عرض کی : آپ خود جانے کے بجائے کسی کے ہاتھ تھیلیاں کیوں نہیں بھجواتے ؟ فرمایا : میں نہیں چاہتا کہ جب کبھی وہ میرے قاصد کو دیکھا کریں یا مجھ سے ملا کریں تو احسان تلے ہونے کی وجہ سے شرمندگی محسوس کریں۔ (منہاج القاصدین،کتاب اسرار الزکاۃ،ص۱۷۰)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
بعدِ وصال سخاوت کا پتا چلا
حضرت سیدنا امام زین العابدین رضی اللہ تعالٰی عنہ نے اپنی زندگی میں دو مرتبہ اپنا سارا مال راہِ خدا عَزَّوَجَلَّ میں خیرات کیا اور آپ کی سخاوت کا یہ عالم تھا کہ آپ