Brailvi Books

اَعرابی کے سوالات اور عَرَبی آقا کے جوابات
102 - 118
فرمایا:سخی شخص اللہ عَزَّوَجَلَّ کے قریب ہے لوگوں سے قریب ہے ،جنت سے قریب ہے اوردوزخ سے دُور ہے جب کہ بخیل اللہعَزَّوَجَلَّ سے دور ہے جنت سے دُورہے لوگوں سے دُورہے اوردوزخ سے قریب ہے ۔
(ترمذی،کتاب البر والصلۃ،باب ماجاء فی السخائ،۳/۳۸۷،حدیث:۱۹۶۸)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
خوش طبع مہمان اوربخیل میزبان
	 حضرت سیِّدُنا ابو عبدُاللہ سُتوری علیہ رحمۃُ اللہِ القویایک بار کسی دنیاداربخیل شخص کے دسترخوان پر تشریف فرما تھے ، اس نے بُھنا ہوا بچھڑا آپ کے آگے رکھا ، جب اس نے لوگوں کو بچھڑے کے ٹکڑے کرتے دیکھا تو تنگ دل ہوکر اپنے غلام سے کہا : یہ بچوں کے لئے لے جاؤ ۔ غلام اسے اٹھا کر گھر کے اندر جانے لگا تو آپ رحمۃُ اللہ تعالٰی علیہ اس کے پیچھے ہولئے ۔ عرض کی گئی : آپ کہاں تشریف لے جا رہے ہیں ؟ فرمایا : میں بچوں کے ساتھ کھاؤں گا ۔ یہ سن کرمیزبان بڑا شرمندہ ہوا اورغلام کو بچھڑا واپس لانے کا کہا ۔  
(احیاء علوم الدین،کتاب آداب الاکل،آداب احضار الطعام،۲ /۲۲)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
(۲۴)  پوشیدہ صدقے اور صلہ رحمی کی فضیلت 
	اَعرابی کا چوبیسواں سوال یہ تھا کہ اللہعَزَّوَجَلَّکے غضب کو کیا چیز ٹھنڈا کرتی