Brailvi Books

عقیدۂ آخرت
40 - 41
صرف اہلِ اسلام میں بلکہ اقوامِ عالم میں بھی مُسَلَّمُ الثُّبُوت(1)اور عزت و شرف کی حامل ہیں اور وہ لوگ بھی ہیں جو اپنے اپنے حلقے میں مذہبی اور روحانی پیشوا کی حیثیت سے جانے اور مانے جاتے ہیں،اس لیے کہنے دیا جائے کہ اگر تاریخ کے ہر دور کے سارے انسانوں کو ہم جھوٹا قرار دے دیں تو پھر اس دنیا میں کون سچا رہ جائے گا؟
اپنے مضمون کے آخر ی مرحلے سے گزرتے ہوئے یہ فقرہ ضرور چُسْت(2) کروں گا کہ عقیدۂ آخرت کی تکذیب کرنے والا صرف کسی ایک طبقے کی تکذیب نہیں کرتا بلکہ ابتداء سے لے کر آج تک ہر عہد کے سارے انسانوں کو وہ جھوٹا ثابت کرنا چاہتا ہے۔میں یقین کرتا ہوں کہ دنیا کا کوئی بھی ہوشمند انسان اس جارحانہ انداز ِفکر سے ہر گز اتفاق نہیں کرے گا۔

عقیدۂ آخرت
قیامت و بعث و حشر و حساب و ثواب و عذاب و جنت و دوزخ سب کے وہی معنی ہیں جو مسلمانوں میں مشہور ہیں، جو شخص ان چیزوں کو تو حق کہےمگر ان کے نئے معنی گھڑے (مثلاً ثواب کے معنی اپنے حسنات کو دیکھ کر خوش ہونا اور عذاب اپنے بُرے اعمال کو دیکھ کر غمگین ہونا یا حشر فقط روحوں کا ہونا) وہ حقیقۃً ان چیزوں کا منکر ہے اور ایسا شخص کافر ہے۔                                (بہار شریعت،۱/۱۵۱)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
1…  یعنی ایسی تسلیم شدہ ہیں کہ ثبوت کی ضرورت نہیں۔
2…  یعنی چَسپاں۔