Brailvi Books

عقیدۂ آخرت
38 - 41
خوشہ توڑ لیں لیکن پھر خیال کچھ آیا اور ہاتھ کھینچ لیا۔(1)
حضرت جبرئیل امین عَلَیْہِ السَّلَام کے بارے میں تو سبھی جانتے ہیں کہ وہی خدائے ذوالجلال کی وحی لے کر حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کے پاس آیا کرتے تھے۔ حضور بے تکلف انہیں دیکھتے تھے اور براہِ راست ان کی آواز سنتے تھے حالانکہ حضرت جبرئیل امین عالم دنیا کی نہیں عالم غیب کی ہستی ہیں۔
یہ روایت بھی حدیثوں میں موجود ہے کہ قبرستانوں سے گزرتے ہوئے حضورِ اَنور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم اس امر کا بھی مشاہدہ فرمالیتے تھے کہ عالمِ برزخ میں کسی مردے کا کیا حال ہے(2)حالانکہ مرنے کے بعد عذاب و ثواب کا سارا معاملہ عالمِ غیب سے تعلق رکھتا ہے۔ ان ساری بحثوں سے یہ بات اچھی طرح ثابت ہوگئی کہ عالمِ آخرت کے حقائق اپنی جگہ پر موجود ہیں، کمی جو کچھ ہے وہ ہمارے اندر ہے کہ ان کے مشاہدے کے لیے روح میں جس لطافت کی ضرورت ہے وہ ہر انسان کو میسر نہیں ہے۔
پانچویں دلیل :
تاریخِ عالم کا مطالعہ کریں تو آپ پر یہ حقیقت کھل جائے گی کہ عالمِ آخرت کا تصوُّر انسان کی فطرت میں اس طرح وَدِیعت کردیا(3) گیا ہے کہ عہدِ قدیم(4)سے دنیا کی ساری اَقوام کسی نہ کسی شکل میں مرنے کے بعد جزا  و سزا کے عقیدہ سے منسلک رہی ہیں اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ مرنے کے بعد سب کے پاس مردے کی نجات و مغفرت کے لیے کچھ نہ کچھ مذہبی رسوم ضرور ادا کیے جاتے ہیں،اس کے لیے چاہے 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
1…  بخاری، کتاب الاذان، باب رفع البصر الی الامام فی الصلاۃ، ۱/۲۶۵، الحدیث: ۷۴۸۔
2…  بخاری، کتاب الوضو  ء، ۵۹-باب ، ۱/۹۶، الحدیث: ۲۱۸۔
3… یعنی رکھ دیا ۔
4…  زمانۂ ماضی۔