Brailvi Books

عقیدۂ آخرت
37 - 41
ان ساری مثالوں سے یہ حقیقت اچھی طرح واضح ہوجاتی ہے کہ موجود ہونے کے باوجود بہت سی چیزوں کے دیکھنے اور سننے سے ہم صرف اس لیے قاصر رہتے ہیں کہ ہمارے پاس اس کے مشاہدہ کے لیے ذرائع نہیں ہیں، نہ آنکھوں میں اس کے لیے قوتِ بصارت ہے اور نہ کانوں میں اس کے لیے قوتِ سماعت ہے، اس لیے اصل سوال مشاہدہ کے فقدان کا نہیں بلکہ ذرائع کے فقدان کا ہے۔
اور ایسا اس لیے ہے کہ جس نے ہمیں آنکھیں عطا کی ہیں ،ہمیں کان مرحمت فرمائے ہیں اس نے بصارت و سماعت کی قوتوں کے لیے حدیں بھی مقرر کردی ہیں ہم اپنی آنکھوں سے مصری کی ڈلی تو دیکھ لیتے ہیں لیکن اس کی مٹھاس نہیں دیکھ سکتے اسی طرح آنکھیں صرف مادّی چیزوں کو دیکھ سکتی ہیں مصری کی مٹھاس اور سنکھیا کا زہر چونکہ ایک معنوی حقیقت ہے اس لیے آنکھوں میں اس کے دیکھنے کی صلاحیت ہی نہیں دی گئی ہے۔
پھر سوچنے کی بات یہ ہے کہ جب اس عالم کی معنوی حقیقت کو دیکھنے کی قوت ہماری آنکھوں میں نہیں ہے تو وہ عالم آخرت جس کا تعلق عالمِ غیب سے ہے اسے ہماری آنکھیں کیونکر دیکھ سکتی ہیں؟البتہ خدا نے اپنے جن مقرب بندوں کو غیبی قوتِ ادراک سے سرفراز کیا ہے وہ اسی دنیا میں غیبی حقیقتوں کا مشاہدہ کرلیتے ہیں۔حدیثوں میں اس طرح کی روایتیں کثرت سے ملتی ہیں کہ حضور پاک صاحبِ لولاک صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے اسی زمین پر کھڑے ہو کر جنّت و دوزخ کا مشاہدہ فرمایا ہے ،جہاں تک بیان کیا گیا ہےحضور نے چاہا کہ ہاتھ بڑھا کر جنّت کے انگور کا ایک