Brailvi Books

عقیدۂ آخرت
36 - 41
کی قوم کے گمراہ لوگوں نے بھی یہی کہا تھا:
لَنۡ نُّؤْمِنَ لَکَ حَتّٰی نَرَی اللہَ جَہۡرَۃً (1)ہم آپ پر ہر گز ایمان نہیں لائیں گے جب تک ہم خدا کو کھلم کھلا اپنی آنکھوں سے نہ دیکھ لیں گے۔
لیکن یہ نادان اس بات کو نہیں سمجھتے کہ کسی چیز کا آنکھوں سے مشاہدہ نہ ہونا اس چیز کے نہ ہونے کی دلیل نہیں ہے اور کسی آواز کو اپنے کانوں  نہ سن سکنا اس بات کی دلیل نہیں بن سکتا کہ آواز کا وجود ہی نہیں ہے۔
آج کے مشینی دور میں اس کی بہت سی زندہ مثالیں ہمارے سامنے موجود ہیں، مثال کے طور پر کسی بھی ریڈیو اسٹیشن سے جو آواز نشر کی جاتی ہے وہ ریڈیائی لہروں کے ذریعہ فضا میں ہر طرف پھیل جاتی ہے اس کی لہریں ہمارے کانوں کے قریب سے گزرتی رہتی ہیں لیکن آواز سنائی نہیں دیتی لیکن جیسے ہی ہم ریڈیو آن کرتے ہیں فضا میں تیرنے والی آواز ہمارے کانوں سے ٹکرانے لگتی ہے۔
بالکل اسی طرح ٹیلی ویژن سینٹر سے روشنی کی لہروں کے دوش پر جو تصویریں ٹیلی کاسٹ کی جاتی ہیں وہ ہماری آنکھوں کے سامنے سے گزرتی رہتی ہیں لیکن ہمیں فضا میں کوئی منظر دکھائی نہیں دیتا اور جیسے ہی ہم ٹیلی ویژن بکس کا بٹن دباتے ہیں اسکرین پر ساری تصویریں ہمیں نظر آنے لگتی ہیں اسی طرح کسی کے پھیپھڑے کا سیاہ دھبہ ہمیں باہر سے نظر نہیں آتا لیکن ایکسرے مشین نہ صرف یہ کہ اس دھبے کو دیکھ لیتی ہے بلکہ دوسروں کو بھی دکھا دیتی ہے۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
1…  پ۱،البقرۃ: ۵۵۔