Brailvi Books

عقیدۂ آخرت
35 - 41
 بھی عائد کی گئی ہیں ،بہت سے فرائض کا اسے پابند کیا گیا ہے اور بہت سی چیزوں سے اسے روک دیا گیا ہے۔ فرائض کی پابندی کرنے والوں کو انعام و جزا کی بشارت دی گئی ہے اور ممنوعات کا ارتکاب کرنے والوں کو سزا کا خوف دلایا گیا۔ جس خدا نے انسانوں کو پیدا کیا،ا نہیں پالا اور جگہ جگہ بے شمار نعمتوں کے دستر خوان ان کے لیے بچھائے اوربے پایاں رحمت و کرم کے ساتھ قدم قدم پر ان کی ناز برداری کی اسے قطعاً حق پہنچتا ہے کہ نافرمانوں کو وہ سزا دے اور اطاعت شعاروں کو خلعتِ اکرام سے نہال کرے۔
ان حالات میں عقل کا تقاضا بھی یہی ہے کہ زندگی بھر کے اعمال کا محاسبہ کرنے کے لیے حساب و کتاب کا ایک دن مقرر کیا جائے تاکہ اطاعت شِعاروں کوانعام و اکرام سے نوازا جائے اور نافرمانوں کو سزاد ی جائے، اگر فیصلہ کا کوئی دن مقرر نہ ہو تو جزا و سزا کا قانون بے معنیٰ ہو کر رہ جائے ۔
اب یہاں یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہے کہ فیصلہ کا جو دن مقرر کیا گیا ہے اس کا نام قیامت کا دن ہے، اور وہ عالم آخرت میں پیش آئے گا۔
چوتھی دلیل :
عقیدۂ آخرت کے منکرین کے پاس سب سے مضبوط دلیل یہ ہے کہ عالمِ دنیا کے علاوہ بھی اگر کوئی اور عالم ہے تو وہ ہماری آنکھوں سے نظر کیوں نہیں آتا اور اس عالم کی آواز ہمارے کانوں تک کیوں نہیں پہنچتی؟اس مقام پر ذرا جہل کی فطرت کی ہم آہنگی دیکھئے کہ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام